پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر سیمینار، ماہرین کی انتہائی اہم تجاویز سامنے آگئیں

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں تھنک ٹینک ’ایڈووکیسی اویئرنس اینڈ سسٹین ایبل سروسز (آس) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں ماہرین نے ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل پر جذباتی نعروں کے بجائے شواہد، جمہوریت اور آئین کی حدود میں رہتے ہوئے باضابطہ ایک ’کمیشن‘ کے ذریعے جامع قومی مشاورت پر زور دیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ایڈووکیسی، ایویئرنس اینڈ سسٹین ایبل سروسز آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام ‘پاکستان میں نئے صوبے: آگے کا راستہ‘ کے عنوان سے پالیسی مکالمہ منعقد ہوا۔

مکالمے میں سماجی ماہرین، سیاست دانوں، وکلا، صحافیوں اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے نئے صوبوں کے قیام کے ممکنہ اثرات، آئینی تقاضوں، سیاسی نمائندگی، انتظامی کارکردگی، وسائل کی تقسیم اور عوامی فلاح پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

تقریب کا آغاز اور شرکا

تقریب کا آغاز ’آس‘ کے سربراہ ناصر جیلانی کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا، جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمیٰ اوشو ناصر نے مکالمے کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے

ڈائیلاگ پینل میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد، سینیئر صحافی عمار مسعود، پالیسی ماہر نعیم صدیقی، سابق رکن قومی اسمبلی و زرعی ماہر سردار منصور حیات تممن، ترقیاتی امور کے ماہر ظفراللہ خان اور معروف کاروباری شخصیت ظفر بختاوری شامل تھے۔

نئے صوبوں کا مقصد واضح کرنے پر زور

مقررین نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا بنیادی مقصد واضح ہونا چاہیے اور یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ اس اقدام سے واقعی حکمرانی اور انتظامی امور میں بہتری آئے گی یا نہیں؟۔

مقررین کے مطابق محض انتظامی حدود تبدیل کرنے کے بجائے اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو مؤثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل کرنا اصل ہدف ہونا چاہیے۔

مقررین نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ایک بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے جو ملک کے مختلف علاقوں کی انتظامی، معاشی، سیاسی اور سماجی ضروریات کا جائزہ لے کر جامع سفارشات مرتب کرے۔ مقررین کے مطابق کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے آئینی اور جمہوری طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔

بنیادی نکتہ، کمیشن کے قیام کی تجویز

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام سے متعلق کسی حتمی فیصلے سے قبل جامع اور شواہد پر مبنی بحث ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے سے واقعی طرزِ حکمرانی اور انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی یا نہیں ، علاوہ ازیں اس کے پیچھے کارفرما مقاصد کو واضح طور پر بیان کیا جانا چاہیے۔

مقررین نے بھارت کی طرز پر ایک کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی جو نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سفارشات مرتب کرے۔

ان کا مؤقف تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے وسائل کی گراس روٹ سطح تک منتقلی ممکن ہوگی، معاشی حالات بہتر ہوں گے اور عوامی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کے لیے آئین میں وسیع پیمانے پر ترامیم درکار ہوں گی۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ صوبے بنانے کے بجائے ہر ضلع کو صوبائی سطح پر نمائندگی دی جائے۔

ماہرین کی آرا

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک طویل عمل ہے جس کے لیے آئین کی متعدد شقوں میں ترمیم درکار ہوگی۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو بھارت کے طرز پر ایک کمیشن قائم کرنا چاہیے اور اسی کی سفارشات کی روشنی میں نئے صوبوں کے قیام پر کام آگے بڑھایا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید نے بھی آئینی طریقہ کار کی پاسداری اور عوامی مفاد کو مدِ نظر رکھنے کی تائید کی۔

معاشی ماہر ظفراللہ خان نے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔

ان کا مؤقف تھا کہ نئے صوبے بننے سے سینیٹ کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور اس کے وفاق پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبے بھی اب تک مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

سینیئر صحافی اور وی نیوز کے چیف ایڈیٹر عمار مسعود نے کہا کہ ملک میں مؤثر بلدیاتی نظام کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے اور عوام کی خوشحالی کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم اس عمل کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اور جمہوریت کو نقصان پہنچائے بغیر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

سردار منصور حیات تممن نے قومی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کی مدت میں کمی کی تجویز دی۔ جبکہ نعیم صدیقی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے وسائل کی گراس روٹ سطح تک منتقلی یقینی بنے گی، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور معیشت میں بہتری آئے گی۔

ظفر بختاوری نے نئے صوبوں کے قیام کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ سیاسی حکومتیں عموماً اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکام رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:نئے صوبوں کا قیام: بلوچستان میں کیا رائے پائی جاتی ہے؟

ان کے مطابق نئے صوبے بننے سے اسپتالوں، جامعات اور دیگر عوامی سہولیات میں اضافہ ہوگا، وسائل کی منتقلی آسان ہوگی، سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور عوام کو صحت و تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے لسانی تقسیم کو کمزور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں ’آس‘ کے سربراہ ناصر جیلانی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر وسیع مکالمے کی اشد ضرورت ہے، اور یہی مقصد پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ اہم مکالمہ منعقد کیا گیا، جو ملک کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

آخر میں ’آس‘ نے قومی اہمیت کے حامل مسائل پر تعمیری پالیسی مکالمے اور جامع بحث کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟