اوپن اے آئی نے ایسا نیا پلگ اِن متعارف کرادیا ہے جس کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی میک کمپیوٹر پر ایپل کی میسجز ایپ میں موجود گفتگو پڑھ، تلاش اور خلاصہ کرسکتا ہے جبکہ صارف کی ہدایت پر پیغامات تیار کرکے بھیج بھی سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے ستمبر ایونٹ میں 10 سے زائد نئی مصنوعات متعارف کرائے جانے کا امکان
یہ سہولت آئی میسج، ایس ایم ایس اور آر سی ایس گفتگو کے ساتھ کام کرتی ہے جس کے باعث چیٹ جی پی ٹی کو صارفین کی ذاتی نوعیت کی مواصلات تک پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد ٹیکنالوجی کے شعبے میں پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی ایپل کے پیغامات کیسے پڑھ سکے گا؟
یہ پلگ اِن میک او ایس پر چیٹ جی پی ٹی کے تمام ڈیسک ٹاپ پلانز میں دستیاب ہے تاہم اس کی عملی فعالیت فی الحال چیٹ جی پی ٹی ورک اور کوڈیکس تک محدود ہے اور عام چیٹ جی پی ٹی گفتگو میں یہ سہولت دستیاب نہیں۔
اوپن اے آئی کی جانب سے دی گئی ایک مثال میں صارف نے چیٹ جی پی ٹی سے گزشتہ روز کی وہ گفتگو تلاش کرنے کو کہا جو اسے نہیں مل رہی تھی جس کے بعد چیٹ بوٹ نے میسجز ایپ کے ذریعے متعلقہ گفتگو تلاش کرنے اور جواب تیار کرنے میں مدد کی۔
اس سہولت کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً طویل گفتگو کا خلاصہ تیار کرنا، ایسے اسپیم پیغامات تلاش کرنا جنہیں حذف کرنا ہو یا پیغامات میں موجود سالگرہ کی تاریخیں تلاش کرکے انہیں کیلنڈر میں شامل کرنے میں مدد لینا۔
مزید پڑھیے: کیا آئی فون 18 پرو میکس ایپل کا اب تک کا سب سے بڑا اپ گریڈ ہوگا؟ 7 بڑی لیکس سامنے آگئیں
فی الحال یہ پلگ اِن صرف ایپل سلیکن سے لیس میک کمپیوٹرز پر کام کرتا ہے۔
صارف کی اجازت لازمی ہوگی
چیٹ جی پی ٹی کو میسجز کی تاریخ تک رسائی دینے کے لیے صارف کو سیٹ اَپ کے دوران اپنے میک میں محفوظ پیغامات تک رسائی کی اجازت دینی ہوگی۔
اس کے علاوہ میک او ایس کی سسٹم سیٹنگز میں فل ڈسک ایکسس کی الگ اجازت بھی دینا ہوگی۔ صارف کو رابطوں میں محفوظ افراد کے نام دیکھنے اور آٹومیشن ٹولز استعمال کرنے کی بھی اجازت دینی ہوگی۔
اس طرح اجازت دینے کے متعدد مراحل کا مقصد یہ ہے کہ یہ سہولت صارف کی لاعلمی میں فعال نہ ہوسکے۔
پیغام بھیجنے کے لیے بھی بطور ڈیفالٹ صارف کی دستی منظوری ضروری ہوگی۔ اوپن اے آئی نے صارفین کو مستقل منظوری کا آپشن فعال کرنے سے بھی خبردار کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پیغام بھیجے جانے سے قبل آخری انسانی جانچ کا مرحلہ ختم ہوجاتا ہے اور چیٹ جی پی ٹی صارف کے نام سے براہ راست پیغام بھیج سکتا ہے۔
پرائیویسی اور سیکیورٹی کے سوالات
ایپل میسجز میں ذاتی گفتگو تک چیٹ جی پی ٹی کو رسائی ملنے کے باعث ماہرین اور صارفین کے لیے پرائیویسی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔ اگرچہ رسائی کے لیے متعدد اجازتیں درکار ہیں، تاہم ایک اے آئی نظام کو ذاتی پیغامات پڑھنے، انہیں تلاش کرنے اور ان کی بنیاد پر نئے پیغامات تیار کرنے کی صلاحیت ملنا پہلے کی نسبت حساس نوعیت کی رسائی ہے۔
یہ پیشرفت اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ ایپل اور اوپن اے آئی کے درمیان ماضی میں اے آئی اور آئی میسج سے متعلق معاملات پر اختلافات سامنے آچکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’چیٹ جی پی ٹی انسان نہیں‘: اوپن اے آئی کی نوعمر صارفین کے لیے نئی حکمت عملی
سنہ 2024 میں ایپل نے بیپر منی کی آئی میسج تک رسائی متعدد مرتبہ بند کی تھی۔ بیپر منی ایک ایسی چیٹ ایپ تھی جس کے ڈویلپرز نے آئی میسج کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے ایپل کے نظام کو ریورس انجینیئر کرنے کی کوشش کی تھی۔
ایپل اور اوپن اے آئی کے تعلقات میں تناؤ
نئے فیچر کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جولائی میں ایپل نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے ایپل کے خفیہ پروڈکٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے ایپل کے ملازمین کو اپنی جانب راغب کیا۔
اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق ایپل نے رواں سال اپنی بعض اے آئی خصوصیات کے لیے اوپن اے آئی کے بجائے گوگل کے جیمنائی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایسے میں ایپل کے اپنے میسجز نظام تک چیٹ جی پی ٹی کو براہ راست رسائی دینے والی نئی سہولت نہ صرف ٹیکنالوجی کے اعتبار سے اہم پیشرفت ہے بلکہ اس کے ساتھ پرائیویسی، سیکیورٹی اور صارف کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق بحث بھی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر، صارفین ایک کلک سے اے آئی اسٹیکرز واٹس ایپ پر منتقل کرسکیں گے
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ سہولت صارف کی واضح اجازت کے بغیر فعال نہیں ہوتی اور چیٹ جی پی ٹی کو میسجز تک رسائی دینے کے لیے میک کی سیٹنگز میں متعدد اجازتیں خود صارف کو دینی پڑتی ہیں۔














