’چیٹ جی پی ٹی انسان نہیں‘: اوپن اے آئی کی نوعمر صارفین کے لیے نئی حکمت عملی

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ میں متعدد نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرا دیے ہیں جن کا مقصد نوعمر افراد کو ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ انسانی تاثر اور غیر صحت مند استعمال سے محفوظ رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا بڑا اقدام، مفت صارفین کے لیے چیٹنگ کی حد ختم

نئے نوعمر اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین اب انسان جیسی آواز میں چیٹ جی پی ٹی کے جوابات دینے کا فیچر بند کرسکیں گے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کے انسان جیسا محسوس ہونے کے امکان کو کم کرنا ہے۔

کمپنی نے نوجوان صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے دوران وقفہ لینے کی باقاعدہ یاد دہانیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔ چیٹ بوٹ انہیں یاد دلائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بات کررہے ہیں اور یہ بھی کہ ’یہ انتظار کرسکتا ہے‘۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی مخصوص واقعے کے ردعمل میں نہیں کیے گئے تاہم مصنوعی ذہانت کے ایسے نظاموں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بعض صارفین ان سے بات چیت کے دوران یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ یہ نظام شعور رکھتے ہیں یا زندہ ہیں۔

گزشتہ برس مائیکروسافٹ کے شعبہ مصنوعی ذہانت کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے بھی کہا تھا کہ بظاہر باشعور دکھائی دینے والی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات ان کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور ان کے ممکنہ سماجی اثرات انہیں پریشان رکھتے ہیں۔

نوعمر صارفین کے لیے الگ حفاظتی نظام

اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں چیٹ جی پی ٹی کے نوعمر صارفین سے متعلق نئے نظام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا مصنوعی ذہانت کا استعمال ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے مرحلے کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر، صارفین ایک کلک سے اے آئی اسٹیکرز واٹس ایپ پر منتقل کرسکیں گے

کمپنی کے مطابق جو افراد اکاؤنٹ بناتے وقت خود کو نوعمر ظاہر کریں گے ان کے لیے نوعمر اکاؤنٹ ڈیفالٹ ہوگا۔ ایسے صارفین کے اکاؤنٹس بھی اس نظام کے تحت لائے جائیں گے جنہیں کمپنی خود 18 سال سے کم عمر تصور کرے گی۔

تاہم اوپن اے آئی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صارف کی عمر کی شناخت کس طریقے سے کرے گی۔

کمپنی کے مطابق 13 سال سے کم عمر بچوں کو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

’اسٹڈی موڈ‘ اور ’خاموش اوقات‘

اوپن اے آئی نے نوجوان صارفین کے لیے اسٹڈی موڈ میں بھی مزید سہولتیں متعارف کرائی ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے گزشتہ برس اسٹڈی موڈ متعارف کرایا تھا جس میں طلبہ کو براہ راست جواب دینے کے بجائے اسکول کے کام کو سمجھنے میں مرحلہ وار مدد فراہم کی جاتی ہے۔

اب نوجوان صارفین مخصوص اوقات مقرر کرسکیں گے جن کے دوران اسٹڈی موڈ چیٹ جی پی ٹی کی ڈیفالٹ ترتیب ہوگا۔

اسی طرح صارفین ’خاموش اوقات‘ بھی مقرر کرسکیں گے جن کے دوران چیٹ جی پی ٹی ان کے لیے بند رہے گا۔

اوپن اے آئی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے نوجوانوں میں 10 میں سے 9 اسے تعلیمی سرگرمیوں میں مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کھانے کی خرابی سے متعلق مواد پر والدین کو اطلاع

اوپن اے آئی نے نقصان دہ صارف درخواستوں کی فہرست میں کھانے کی خرابیوں سے متعلق مواد بھی شامل کردیا ہے۔ ایسے معاملات میں اگر والدین کا اکاؤنٹ نوعمر کے اکاؤنٹ سے منسلک ہو تو انہیں اطلاع دی جاسکے گی۔

کمپنی کے مطابق ہر الرٹ والدین کو بھیجنے سے قبل ایک انسانی اہلکار اس کا جائزہ لے گا اور کوشش کی جائے گی کہ درخواست کیے جانے کے ایک گھنٹے کے اندر والدین تک اطلاع پہنچ جائے۔

مزید پڑھیں: ٹوکنومکس: چیٹ جی پی ٹی مفت کیوں ہے، مستقبل میں اے آئی کی قیمت کیسے طے ہوگی؟

اوپن اے آئی نے کہا کہ اس نظام میں خاص طور پر ان مواقع پر توجہ دی جائے گی جب نوجوان صارف کے لیے حقیقی دنیا میں موجود افراد سے مدد حاصل کرنا زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

کمپنی نے نوجوانوں کو چیٹ جی پی ٹی پر حساس مواد شیئر نہ کرنے کے حوالے سے بھی متنبہ کرنے کے لیے نئے پیغامات شامل کیے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں اے آئی کے استعمال پر بھی بحث

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی بحث جاری ہے۔

برطانیہ کے پالیسی ایکسچینج نامی تھنک ٹینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانیہ کی بڑی تعداد میں جامعات آن لائن اور گھر سے دیے جانے والے امتحانات پر انحصار کے باعث طلبہ کی جانب سے اے آئی کے ذریعے تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے معاملے میں خود کو خطرے سے دوچار کررہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جن طلبہ سے بات کی گئی ان میں سے 94 فیصد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تعلیمی جائزوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔

برطانیہ میں فی الحال مصنوعی ذہانت کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود نہیں۔ سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی حکومت نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق اصلاحات کے ساتھ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر پابندی یا محدودیت کے امکان پر بھی غور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی جلد اے آئی ڈیوائسز متعارف کرائے گا، چیٹ جی پی ٹی کے لیے نئے آلات کی تیاری

دوسری جانب اینتھروپک کا مصنوعی ذہانت کا ٹول کلاڈ اب بھی صرف بالغ صارفین کے لیے دستیاب ہے جبکہ گوگل نے اپنے اے آئی ٹول جیمنی کو ابتدائی طور پر لانچ کرتے وقت بچوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔

اب ڈاکٹر مریضوں سے اے آئی کے استعمال کے بارے میں دریافت کیا کریں گے

گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کی ڈاکٹر اور مصنوعی ذہانت کی محقق ڈاکٹر سوزن شلمرڈائن نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں ڈاکٹر ممکنہ طور پر مریضوں سے یہ پوچھنا شروع کردیں گے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا کتنا استعمال کرتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے آج سگریٹ نوشی یا شراب نوشی سے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی معلومات کے حد سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں معاشرے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کے نئے ورژن سے امریکی حکومت کیوں خوفزدہ ہے؟

اوپن اے آئی کے تازہ حفاظتی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بالخصوص بچوں اور نوعمر افراد کو ٹیکنالوجی کے ممکنہ نفسیاتی اور سماجی اثرات سے محفوظ رکھنے پر عالمی سطح پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 34 پیسے، ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد