بھارت کی سپریم کورٹ نے جنگلی ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا حکم دیتے ہوئے ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے قدرتی راستوں میں رکاوٹیں دور کرنے اور ان راستوں کا سروے کرانے کی ہدایت کردی۔
بھارت دنیا میں ایشیائی ہاتھیوں کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے، تاہم جنگلات کی تیزی سے کمی، شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر اور کان کنی کے باعث ہاتھیوں کے قدرتی مسکن مسلسل محدود ہو رہے ہیں، جس سے انسان اور ہاتھیوں کے درمیان تصادم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’سیریل کلر ہاتھی‘ نے ماہ رواں میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا
سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والے راستوں میں رکاوٹیں پیدا نہ ہونے دی جائیں اور ایسے تمام مقامات کی نشاندہی کے لیے سروے کیا جائے جہاں ہاتھیوں کی قدرتی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔
عدالت نے ہاتھیوں کو ان کے قدرتی راستوں سے زبردستی ہٹانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق ہاتھیوں کو آگ دکھا کر یا جلتی ہوئی لکڑیوں کے ذریعے بھگانے والی ‘ہلّہ پارٹیاں’ بھی ختم کی جائیں، کیونکہ ایسے اقدامات ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان تنازع مزید بڑھاتے ہیں۔
جنگلی حیات کے تحفظ کی کارکن پرینا سنگھ بندرا نے عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھیوں کو بھگانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا آگ اور جلتے ہوئے نیزے لے کر ان کا پیچھا کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ تنازع کو مزید سنگین کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست آسام میں ٹرین کی ٹکر سے 7 ہاتھی ہلاک
عالمی ادارہ تحفظِ فطرت کے مطابق ایشیائی ہاتھی خطرے سے دوچار جانوروں میں شامل ہیں، جبکہ عالمی ادارہ تحفظِ جنگلی حیات کے مطابق دنیا بھر میں جنگلات میں موجود ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر بھارت میں پائے جاتے ہیں۔
بھارت میں ہاتھیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور انہیں ملک کا ‘قومی ورثہ جانور’ بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں ہاتھی کے سر والے دیوتا گنیش سے وابستگی کے باعث بھی ہاتھیوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے، تاہم ان کے قدرتی مسکن کی تباہی اور انسانوں کے ساتھ بڑھتے تنازعات ان کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
بھارتی حکومت کی اکتوبر 2025 میں جاری کی گئی ہاتھیوں کی مردم شماری کے مطابق ملک میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد 22 ہزار 446 تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہاتھی اب اپنے تاریخی مسکن کے صرف 3.5 فیصد رقبے تک محدود ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جنگلی ہاتھی نے نوجوانوں کے ساتھ فٹبال کھیلی، ویڈیو وائرل
سپریم کورٹ نے ایک الگ حکم میں بھارت میں قید 2 ہزار 600 سے زائد ہاتھیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ حکم کے تحت ہر ہاتھی کا طبی ریکارڈ رکھنے اور باقاعدگی سے طبی معائنہ یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاتھی ذہین اور سماجی جانور ہیں اور انہیں قید میں رکھنے کے بجائے ان کے قدرتی ماحول میں رہنے کا حق ملنا چاہیے۔














