بھارت میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کے نئے اقدامات، ہلّہ پارٹیوں پر پابندی

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سپریم کورٹ نے جنگلی ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا حکم دیتے ہوئے ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے قدرتی راستوں میں رکاوٹیں دور کرنے اور ان راستوں کا سروے کرانے کی ہدایت کردی۔

بھارت دنیا میں ایشیائی ہاتھیوں کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے، تاہم جنگلات کی تیزی سے کمی، شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر اور کان کنی کے باعث ہاتھیوں کے قدرتی مسکن مسلسل محدود ہو رہے ہیں، جس سے انسان اور ہاتھیوں کے درمیان تصادم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’سیریل کلر ہاتھی‘ نے ماہ رواں میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والے راستوں میں رکاوٹیں پیدا نہ ہونے دی جائیں اور ایسے تمام مقامات کی نشاندہی کے لیے سروے کیا جائے جہاں ہاتھیوں کی قدرتی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔

عدالت نے ہاتھیوں کو ان کے قدرتی راستوں سے زبردستی ہٹانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق ہاتھیوں کو آگ دکھا کر یا جلتی ہوئی لکڑیوں کے ذریعے بھگانے والی ‘ہلّہ پارٹیاں’ بھی ختم کی جائیں، کیونکہ ایسے اقدامات ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان تنازع مزید بڑھاتے ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی کارکن پرینا سنگھ بندرا نے عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھیوں کو بھگانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا آگ اور جلتے ہوئے نیزے لے کر ان کا پیچھا کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ تنازع کو مزید سنگین کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست آسام میں ٹرین کی ٹکر سے 7 ہاتھی ہلاک

عالمی ادارہ تحفظِ فطرت کے مطابق ایشیائی ہاتھی خطرے سے دوچار جانوروں میں شامل ہیں، جبکہ عالمی ادارہ تحفظِ جنگلی حیات کے مطابق دنیا بھر میں جنگلات میں موجود ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر بھارت میں پائے جاتے ہیں۔

بھارت میں ہاتھیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور انہیں ملک کا ‘قومی ورثہ جانور’ بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں ہاتھی کے سر والے دیوتا گنیش سے وابستگی کے باعث بھی ہاتھیوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے، تاہم ان کے قدرتی مسکن کی تباہی اور انسانوں کے ساتھ بڑھتے تنازعات ان کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

بھارتی حکومت کی اکتوبر 2025 میں جاری کی گئی ہاتھیوں کی مردم شماری کے مطابق ملک میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد 22 ہزار 446 تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہاتھی اب اپنے تاریخی مسکن کے صرف 3.5 فیصد رقبے تک محدود ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جنگلی ہاتھی نے نوجوانوں کے ساتھ فٹبال کھیلی، ویڈیو وائرل

سپریم کورٹ نے ایک الگ حکم میں بھارت میں قید 2 ہزار 600 سے زائد ہاتھیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ حکم کے تحت ہر ہاتھی کا طبی ریکارڈ رکھنے اور باقاعدگی سے طبی معائنہ یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاتھی ذہین اور سماجی جانور ہیں اور انہیں قید میں رکھنے کے بجائے ان کے قدرتی ماحول میں رہنے کا حق ملنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی