کراچی کے تمام 6 اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی، جون میں کلیئر علاقے پھرخطرے کی زد میں

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں پولیو وائرس نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ شہر کے ایک یا 2 علاقوں کی بات نہیں، بلکہ کراچی کے تمام 6 اضلاع کے ماحولیاتی یعنی سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر فار پولیو کے مطابق جولائی میں کراچی کے ضلع وسطی، شرقی، کیماڑی، ملیر، جنوبی اور غربی سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر کے 46 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی، سندھ سب سے آگے

یہ صورتحال اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ جون میں کراچی کے ان 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کا سراغ نہیں ملا تھا یعنی ایک ماہ کے دوران صورتحال میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔

6 کے 6 اضلاع متاثر، خطرہ کتنا بڑا؟

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس ماحول میں گردش کررہا ہے۔ ایسے نمونے عموماً سیوریج سے حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کسی علاقے میں پولیو وائرس موجود ہے یا نہیں۔

کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں لاکھوں افراد روزانہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کرتے ہیں، وائرس کی موجودگی کو معمولی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

خاص طور پر اس وقت جب جولائی کے نمونوں میں کراچی کے تمام 6 اضلاع سے وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔

صرف کراچی نہیں، دوسرے شہر بھی وائرس کی زد میں

نیشنل ای او سی کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور کے جولائی میں لیے گئے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

بلوچستان میں چمن، ڈیرہ بگٹی اور کوئٹہ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے بنوں اور پشاور سے لیے گئے سیوریج نمونے بھی مثبت آئے۔ پنجاب میں راولپنڈی کے جولائی کے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس پایا گیا۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ کے ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تشخیص، مجموعی تعداد 18 ہوگئی

یعنی وائرس کی موجودگی صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس کے شواہد سامنے آرہے ہیں۔

سیوریج میں وائرس، بچوں کے لیے کیا خطرہ؟

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پولیو وائرس کی موجودگی ہمیشہ یہ ثابت نہیں کرتی کہ اسی علاقے میں کوئی بچہ لازماً پولیو کا شکار ہوچکا ہے، تاہم ماحولیاتی نمونے میں وائرس ملنا اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ وائرس آبادی کے درمیان گردش کررہا ہے۔

اسی لیے انسدادِ پولیو حکام کے لیے ایسے نمونے ایک ابتدائی وارننگ سسٹم کا کام کرتے ہیں۔

والدین کے لیے ایک اہم یاد دہانی

ماہرین کے مطابق پولیو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بچوں کو ویکسین کی مقررہ خوراکیں دلوانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ کے ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تشخیص، مجموعی تعداد 18 ہوگئی

اگر کسی بچے کو مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم گھر پر آئے تو والدین کو چاہیے کہ بچے کو قطرے ضرور پلائیں۔ اگر کسی خوراک سے متعلق ابہام ہو تو قریبی مرکزِ صحت یا متعلقہ انسدادِ پولیو ٹیم سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

کراچی میں جون کے دوران پولیو وائرس کا سراغ نہ ملنے کے بعد جولائی میں تمام 6 اضلاع کے نمونوں میں وائرس کی موجودگی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وائرس کو ماحول سے بچوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی