امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی معاون ساتھی نٹالی ہارپ کی جانب سے مبینہ طور پر 2023 میں لکھے گئے 2 ذاتی خطوط سامنے آنے کے بعد ان کے صدر کے ساتھ غیر معمولی طور پر قریبی تعلق اور وفاداری ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نٹالی ہارپ نے خطوط میں ٹرمپ کو اپنا ’سرپرست اور محافظ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں کبھی مایوس نہیں کرنا چاہتیں۔
خطوط میں ٹرمپ کے لیے غیر معمولی عقیدت کا اظہار
امریکی میڈیا ادارے ڈیلی بیسٹ کے مطابق نٹالی ہارپ نے 2023 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام لکھے گئے خطوط میں اپنے جذبات اور صدر کے ساتھ تعلق کا کھل کر اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا
ایک خط میں ہارپ نے لکھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ‘ہم دونوں کے درمیان چیزیں ہمیشہ درست رہیں’ اور وہ کبھی ٹرمپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتیں۔ اسی خط میں انہوں نے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی میں ‘سرپرست اور محافظ’ قرار دیا۔
دوسرے خط میں ہارپ نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے سابقہ رابطے کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں وہ دن یاد آتے ہیں جب وہ ون امریکا نیوز نیٹ ورک میں ٹاک شو کی میزبانی کرتی تھیں اور ٹرمپ انہیں فون کرکے ‘ہر چیز اور کچھ بھی نہیں’ پر گفتگو کیا کرتے تھے۔
ٹرمپ کے قریب ترین معاونین میں شمار
نٹالی ہارپ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹرمپ کے قریبی حلقے میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکی ہیں۔ سی این این کے مطابق وہ صدر کی اہم ملاقاتوں میں شریک ہوتی ہیں، ان کی سوشل میڈیا پوسٹس کے انتظام میں مدد کرتی ہیں اور ٹرمپ اور بیرونی رابطوں کے درمیان ایک اہم ذریعہ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔
ان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس وقت مزید زیر بحث آیا جب ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف نے رواں ہفتے ایک وائرل تقریر کے دوران ہارپ کا ذکر کیا۔
وائٹ ہاؤس نے ہارپ کا دفاع کردیا
ہارپ کے کردار اور ٹرمپ کے ساتھ ان کی قربت پر بڑھتی ہوئی توجہ کے درمیان وائٹ ہاؤس نے ان کا دفاع کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے سی این این سے گفتگو میں ہارپ کو ٹرمپ کی ٹیم کی ’انتہائی وفادار اور سخت محنت کرنے والی معاونین میں سے ایک’ قرار دیا۔
نٹالی ہارپ کون ہیں؟
نٹالی ہارپ اس سے قبل ون امریکا نیوز نیٹ ورک سے وابستہ تھیں، جہاں وہ ٹاک شو کی میزبانی کرتی تھیں۔ اسی دور میں ان کے ٹرمپ سے براہ راست رابطے رہے، جو بعد میں ان کے سیاسی اور انتظامی حلقے میں مزید قربت کا باعث بنے۔
ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں ہارپ کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہوئی ہے کہ وہ محض روایتی معاون کے طور پر نہیں بلکہ صدر کے روزمرہ سیاسی اور ابلاغی معاملات کے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی موجودگی اہم اجلاسوں، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بیرونی رابطوں میں دیکھی گئی ہے۔
تازہ خطوط نے اسی قریبی تعلق کو ایک نئے زاویے سے نمایاں کیا ہے، تاہم ان میں بیان کیے گئے جذبات ذاتی نوعیت کے ہیں اور ان سے ہارپ کے سرکاری کردار کے بارے میں براہ راست کوئی نتیجہ اخذ کرنا ضروری نہیں۔














