پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر برطانیہ کے صدر چوہدری عبدالرحمان آرائیں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی اوورسیز مخصوص نشست پر بلامقابلہ رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرائے جانے کے باعث چوہدری عبدالرحمان آرائیں کا انتخاب بلا مقابلہ عمل میں آیا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: 3 سابق وزرائے اعظم کو شکست، سردار عتیق کا اپ سیٹ سب سے بڑا کیوں؟
الیکشن کمیشن کے مطابق اوورسیز کشمیریوں کے لیے مختص نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری عبدالرحمان آرائیں کے علاوہ کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے، جس کے بعد انہیں بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
چوہدری عبدالرحمان آرائیں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر برطانیہ کے صدر کی حیثیت سے پارٹی کو برطانیہ میں منظم کرنے اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو مسلم لیگ (ن) کے سیاسی پلیٹ فارم سے جوڑنے میں متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

حالیہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں بھی انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم اور کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا، جبکہ وہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔
مسلم لیگ ن کی انتخابی کامیابی میں اہم کردار
حالیہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی اور براہ راست منتخب ہونے والی 45 نشستوں میں سے 25 نشستیں حاصل کیں۔ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ چوہدری عبدالرحمان آرائیں کی بلامقابلہ کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی براہ راست 45 نشستوں میں سے اب تک 38 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوا ہے، جبکہ پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں امن و امان کے مسائل کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں۔
چوہدری عبدالرحمان آرائیں کی سیاسی خدمات میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ متحرک کرنا، پارٹی کی انتخابی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور آزاد کشمیر میں پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے بیرون ملک سے سیاسی و تنظیمی معاونت فراہم کرنا نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
دانش اسکول کوٹلی کی منظوری کا کریڈٹ بھی چوہدری عبدالرحمان آرائیں سر
چوہدری عبدالرحمان آرائیں کی سیاسی و عوامی خدمات میں دانش اسکول کوٹلی کی منظوری کے لیے کردار بھی خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں دانش اسکول کوٹلی کی منظوری اور اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ان کی کاوشوں کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔
دانش اسکول جیسے تعلیمی منصوبے پسماندہ اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ کوٹلی میں اس منصوبے کی منظوری کو علاقے کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی میں 8 مخصوص نشستیں
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 ارکان براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ 8 نشستیں مخصوص ہیں۔
مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے 5، علما و مشائخ کے لیے ایک، اوورسیز کشمیریوں کے لیے ایک اور ٹیکنوکریٹس و دیگر پروفیشنلز کے لیے ایک نشست شامل ہے۔
اوورسیز کی نشست پر چوہدری عبدالرحمان آرائیں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد اب باقی 7 مخصوص نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہونا باقی ہے۔
باقی 7 مخصوص نشستوں پر مقابلہ
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ امیدواروں کی فہرست کے مطابق خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 7 امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 4 خواتین کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے 3 خواتین مقابلہ کررہی ہیں۔
خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رفعت عابد، مریم زمان، سحرش قمر اور مریم ادریس امیدوار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے فرزانہ یعقوب، شاہین کوثر ڈار اور زوبیہ خورشید راجا کو میدان میں اتارا ہے۔
اسی طرح علما و مشائخ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے پیر مظہر سعید اور پیپلز پارٹی کے حافظ طارق محمود کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
ٹیکنوکریٹ و دیگر پروفیشنلز کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی اور پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار علی مدمقابل ہیں۔
یوں اوورسیز نشست پر چوہدری عبدالرحمان آرائیں کے بلامقابلہ انتخاب کے بعد باقی 7 مخصوص نشستوں پر مجموعی طور پر 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ ’خواتین کی پانچ نشستوں پر 7، علما و مشائخ کی نشست پر 2 اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر 2 امیدوار آمنے سامنے ہیں۔‘
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق باقی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست 2026 کو صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگی۔
مسلم لیگ ن کی پوزیشن مزید مستحکم
چوہدری عبدالرحمان آرائیں کے بلامقابلہ انتخاب سے مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔ عام انتخابات میں 25 براہ راست نشستیں حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) اب اوورسیز مخصوص نشست بھی حاصل کرچکی ہے۔
مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں جماعتوں کی حتمی پارلیمانی پوزیشن واضح ہوگی اور نئی حکومت کی تشکیل کا مرحلہ بھی مزید آگے بڑھے گا۔
چوہدری عبدالرحمان آرائیں کا بلامقابلہ انتخاب نہ صرف مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر برطانیہ کے لیے اہم کامیابی ہے بلکہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے اوورسیز نشست پر حاجی احسان دانش اور راجا جاوید اقبال بھی امیدوار تھے، تاہم قیادت نے چوہدری عبدالرحمان آرائیں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما حاجی احسان دانش نے چوہدری عبدالرحمان آرائیں کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے، اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مل کر تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں گے۔
چوہدری عبدالرحمان آرائیں اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ متحرک اور پیش پیش رہنے والی سیاسی شخصیت کے طور پر نمایاں ہیں۔
اوورسیز کشمیریوں کی اب اسمبلی میں نمائندگی اصل امتحان
بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو درپیش مسائل کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا اور ان کے حل کے لیے آواز اٹھانا ان کی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملکی اور آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی بھرپور طور پر متحرک ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں میں ہر سطح پر نمایاں نظر آتے ہیں۔
پارٹی قیادت سے لے کر کارکنوں تک مؤثر رابطے، سیاسی سرگرمیوں میں فعال شرکت اور مختلف پلیٹ فارمز پر مسلم لیگ (ن) کے مؤقف کی ترجمانی ان کی سیاسی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کروانے کے لیے ایکشن کمیٹی کو استعمال کیا، چوہدری طارق فاروق
یہی متحرک سیاسی کردار اور اوورسیز کشمیریوں کے ساتھ مسلسل رابطہ ان کی بلامقابلہ کامیابی کی ایک اہم وجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اب ان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی کیسے کرتے ہیں۔













