اسرائیلی حملے کے بعد شام اور اسرائیل میں براہِ راست رابطے معطل

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا کہنا ہے کہ دمشق کو اس وقت اسرائیل پر اعتماد نہیں، تاہم سیکیورٹی معاہدے کے لیے مذاکرات جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔ شام نے اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور اپنی سرزمین سے اسرائیلی فوجی انخلا کو مذاکرات کی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شمالی شام میں ابو الظہور ایئربیس پر حملے کے بعد دمشق اور تل ابیب کے درمیان براہِ راست رابطے معطل ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی معاہدے سے متعلق مذاکرات جلد بحال ہونے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں شام کی سرزمین سے اسرائیلی انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اسعد الشیبانی کے مطابق 18 اگست کو ادلب صوبے میں ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد براہِ راست رابطے روک دیے گئے تھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’ہم اس وقت اسرائیل پر اعتماد نہیں کرتے۔‘ شامی وزیر خارجہ نے بتایا کہ دمشق نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مذکورہ تنصیب ترکیہ کا فوجی اڈہ نہیں بنے گی، اس کے باوجود اسرائیل نے اسے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطے کو ضروری سمجھتا ہے کیونکہ وہ مسلسل شامی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، تاہم ایسے رابطوں کا کوئی نتیجہ بھی نکلنا چاہیے۔

سیکیورٹی معاہدے پر پیشرفت

الشیبانی نے بتایا کہ رواں برس شام اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ سیکیورٹی معاہدے کی بیشتر شقوں پر اصولی اتفاق ہوچکا تھا۔ ان کے بقول معاہدے کے تحت اسرائیل شام پر حملے اور اس کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز، فوجی کارروائیاں روکنے اور بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد قبضے میں لیے گئے شامی علاقوں سے انخلا کا پابند ہوگا۔ معاہدے میں سرحد کے قریب مختلف سیکیورٹی زونز قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جن میں ایک بفر زون میں صرف اقوام متحدہ کی موجودگی ہوگی جبکہ دیگر علاقوں میں شامی فورسز کی مختلف سطحوں پر تعیناتی کی جائے گی۔

شامی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل معاہدے کو حتمی شکل دینے سے گریز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق کو محسوس ہوا کہ اسرائیل میں معاہدہ کرنے کی حقیقی خواہش یا آمادگی موجود نہیں۔ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ شام کی فوری ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ ہے، جبکہ گولان اور جامع امن جیسے معاملات پر بات چیت بعد میں کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکا مسلسل اسرائیل پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور شام کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

اسعد الشیبانی نے کہا کہ شام اپنے علاقائی ہمسائیوں کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور فوجی تربیت و تعاون کے لیے ترکیہ کی معاونت بھی جاری رکھے گا۔ 26 جولائی کو شامی صدر احمد الشرع نے بھی کہا تھا کہ دمشق متعدد ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے لیے کام کر رہا ہے، جس کی کامیابی جامع امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp