امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈا کی قریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی درآمدی اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کردیے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام کے جواب میں 8 ستمبر سے امریکی درآمدات پر ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان محصولات میں امریکی اسٹیل، الیکٹرانکس، گھریلو آلات، زرعی آلات اور دیگر مصنوعات شامل ہوں گی۔
BREAKING: US-Canada trade war escalates as Canada suspends trade negotiations, triggering Trump’s 50% tariffs on Canadian goods, with Mark Carney vowing to retaliate ‘dollar for dollar’. pic.twitter.com/yGRTIzEBNA
— HIT.com (@HIT) August 23, 2026
دونوں ممالک کے درمیان 3 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات جمعہ کو اس وقت ناکام ہوگئے جب فریقین تجارتی معاہدے کی شرائط پر اتفاق نہ کرسکے۔ کینیڈا نے امریکی آخری وقت کی بعض شرائط کو ناقابل قبول قرار دیا، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اوٹاوا نے پہلے سے زیرِ بحث معاملات پر پیچھے ہٹ کر مذاکرات ناکام بنائے۔
رائٹرز کے مطابق نئی امریکی محصولات کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی مجموعی برآمدات کے قریباً 5 فیصد حصے کو متاثر کریں گی، تاہم اس اقدام نے دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا کردی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ’پیچیدہ‘ لیکن کینیڈا خوش ہوگا، صدر ٹرمپ
دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے شمالی امریکا کے وسیع تر آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بھی خدشات پیدا کردیے ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس تنازع کے ممکنہ معاشی اثرات پر نظر رکھی جارہی ہے۔














