برطانیہ کے علاقے کارنوال کے ایک اسکول کے طلبہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے پہلی جنگِ عظیم کے ایک سپاہی کی 100 سال سے زیادہ پرانی ڈائری کو مختصر فلم کی شکل دے کر تاریخ کو نئی زندگی بخش دی جسے سپاہی کے خاندان نے سراہتے ہوئے انتہائی جذباتی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ، جنگ عظیم اول کی یادگار کی محفوظ منتقلی کا شاندار منصوبہ
ٹرورو کے پین ایئر اسکول کے طلبہ نے یہ فلم پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے والے کارنوال کے سپاہی اور کان کن جان فرنچ کی ڈائریوں کی بنیاد پر تیار کی۔ اس منفرد منصوبے نے مقامی تاریخ پر ہونے والے میلکم ڈولن پرائز میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کی۔
کان کن سے فوجی بننے والے جان فرنچ کی کہانی
رپورٹ کے مطابق پہلی جنگِ عظیم کے دوران کارنوال کے متعدد ٹن اور تانبے کے کان کنوں کو ان کی سرنگیں کھودنے کی مہارت کی وجہ سے محاذ جنگ پر تعینات کیا گیا تھا جہاں وہ جرمن مورچوں کے نیچے سرنگیں بنا کر بارودی مواد نصب کرتے تھے۔
ریڈروتھ سے تعلق رکھنے والے جان فرنچ نے جنگ کے دوران اپنے تجربات تفصیل سے ڈائریوں میں قلم بند کیے تھے۔ کئی دہائیاں بعد یہ ڈائریاں ان کے ایک رشتہ دار کے گھر کی چھت سے دریافت ہوئیں اور اب انہیں کارنوال کے تاریخی آرکائیو کریسن کرنو میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: دوسری جنگ عظیم کے بم کی دریافت سے پیرس میں ٹرین سروس متاثر
طلبہ نے ان ڈائریوں کے متن، جنگی خندقوں کی تفصیلات اور ماحول کی وضاحتیں اے آئی پروگرام میں شامل کیں جس نے انہیں متحرک مناظر اور فلمی شکل میں تبدیل کر دیا۔
خاندان کی آنکھیں نم ہوگئیں
جان فرنچ کی بھتیجی پینی پکٹن کو فلم کی خصوصی نمائش کے لیے اسکول مدعو کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جان فرنچ صرف 14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ کر کان میں کام کرنے لگے تھے لیکن ان کی تحریری صلاحیت غیرمعمولی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے فلم دیکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
ان کے بقول وہ اپنے 10 بہن بھائیوں کے بہت چہیتے تھے اور اب انہی ڈائریوں کی بدولت انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اے آئی سے تاریخ کو نئی زندگی
اس منصوبے میں طلبہ کی رہنمائی مقامی مؤرخ اور فلم ساز ٹونی اسمتھ نے کی جنہوں نے ایک مقامی تاریخی تقریب میں جان فرنچ کی ڈائریوں کے بارے میں جانا تھا۔
مزید پڑھیں: روس میں جنگ عظیم دوم کا گولہ 70سال بعد پھٹ پڑا، وجہ کیا بنی؟
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بہت سی تنقید اپنی جگہ درست ہے کیونکہ مستقبل میں یہ کئی ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے لیکن اگر اسے تاریخ کو زندہ کرنے جیسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے بے شمار فوائد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کے پاس نہ مہنگے اداکار ہوتے ہیں اور نہ خصوصی بصری اثرات (اسپیشل ایفیکٹس) تیار کرنے کے وسائل، لیکن اے آئی نے طلبہ کو یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ وہ تاریخی واقعات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔
طلبہ نے جنگ کے مناظر خود تیار کیے
منصوبے میں شریک طالب علم رائلی نے بتایا کہ جان فرنچ سنہ 1913 میں ٹین کی قیمتیں گرنے کے بعد امریکا کی ریاست ایریزونا منتقل ہوگئے تھے لیکن جنگ شروع ہوتے ہی واپس برطانیہ آئے اور فوج میں بھرتی ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ سنہ 1915 میں انہیں 251ویں ٹنلنگ رجمنٹ میں تعینات کیا گیا جہاں زیادہ تر کارنوال کے کان کن شامل تھے کیونکہ وہ سرنگیں بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔
رائلی کے مطابق جان فرنچ کی آخری ڈائری سنہ 1917 کی ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’آج محاذ پر غیرمعمولی خاموشی ہے، گھنی دھند کے باعث کوئی طیارہ بھی نظر نہیں آیا‘۔
یہ بھی پڑھیے: فلوریڈا: کھدائی کے دوران دوسری جنگ عظیم کا 450 کلو وزنی بم برآمد
اس کے بعد ان کی ڈائری میں مزید کوئی اندراج نہیں ملا اور آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا۔
جنگ سے واپسی پر جان فرنچ کو سنہ 1918 میں ملٹری کراس سے نوازا گیا تاہم وہ سنہ 1929 میں تپِ دق (ٹی بی) کے باعث انتقال کر گئے۔
مقامی تاریخ طلبہ کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے
اسکول کی تاریخ کی استاد ٹینا توریویلو کا کہنا ہے کہ جب طلبہ اپنے ہی شہر، علاقے یا خاندان سے جڑی تاریخی شخصیات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں بلکہ ان کی اپنی زندگیوں کا حصہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ان کہانیوں میں اتنا دکھ ہوتا ہے کہ طلبہ کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جبکہ زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں خوشی کا باعث بنتی ہیں۔
اے آئی صرف تفریح نہیں، تعلیم کا ذریعہ بھی
15 سالہ طالبہ ایلا روز نے بھی پہلی جنگ عظیم کے دوران کارنوال کی ایک خاتون نینی ٹریمباتھ کی کہانی پر مبنی فلم تیار کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی سے معیاری منظر تخلیق کرنے کے لیے پس منظر، کرداروں کے تاثرات اور ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کی وضاحت کرنا پڑتی ہے اس کے باوجود بعض اوقات اے آئی غلطی بھی کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اسرائیل تصادم: دنیا کے سر پر تیسری جنگ عظیم کا خطرہ منڈلا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اے آئی کا استعمال اکثر غیرضروری یا منفی مقاصد کے لیے ہوتا ہے لیکن ان کے منصوبے میں یہی ٹیکنالوجی کتابوں میں موجود پرانی کہانیوں کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا ذریعہ بن گئی ہے۔













