آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران زخمی پولیس اہلکار کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے اسپتال پہنچانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی زوبیہ خورشید راجا اب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن بھی منتخب ہوگئی ہیں، تاہم ان کی اسمبلی تک رسائی کا فیصلہ بھی انتہائی دلچسپ انداز میں ہوا۔
خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی زوبیہ خورشید راجا اور مسلم لیگ ن کی رفعت عابد کے درمیان مقابلہ ہوا تو دونوں امیدواروں نے 5،5 ووٹ حاصل کیے، جس کے بعد دونوں کے درمیان مقابلہ برابر ہوگیا۔

برابر ووٹ آنے پر فیصلہ ٹاس کے ذریعے کیا گیا، جس میں کامیابی پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار زوبیہ خورشید راجا کے حصے میں آئی اور وہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئیں۔
یوں ایک سال قبل احتجاج کے دوران زخمی پولیس اہلکار کی جان بچانے کے واقعے سے نمایاں ہونے والی زوبیہ خورشید راجا نے اب پارلیمانی سیاست میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔
زخمی پولیس اہلکار کو اپنی گاڑی میں اسپتال پہنچایا تھا
زوبیہ خورشید راجہ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے حلقہ غربی باغ سے ہے۔ 2025 میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران چمیاٹی کے مقام پر ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تو زوبیہ خورشید راجا اسے اپنی گاڑی میں باغ اسپتال لے کر پہنچیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت حالات انتہائی کشیدہ تھے اور زخمی پولیس اہلکار کو اسپتال منتقل کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔
زوبیہ خورشید راجا نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر زخمی اہلکار کو اپنی گاڑی میں منتقل کیا اور باغ کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال کی ایمرجنسی تک پہنچایا۔ اسپتال پہنچنے پر مشتعل ہجوم نے ان کی گاڑی پر حملہ بھی کیا، تاہم وہ زخمی اہلکار کو ایمرجنسی تک پہنچانے میں کامیاب رہیں۔
اس واقعے کے بعد زوبیہ خورشید راجا کا نام نمایاں ہوا اور ان کے اس اقدام کو انسانی جان بچانے، بہادری اور مشکل حالات میں جرات مندانہ کردار کے طور پر سراہا گیا۔
تمغۂ شجاعت دینے کی بھی منظوری
زوبیہ خورشید راجا کی اسی بہادری کے اعتراف میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے انہیں تمغہ شجاعت دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ سول ایوارڈز کی تقریب آئندہ سال 23 مارچ، یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہوگی۔

یعنی زخمی پولیس اہلکار کی جان بچانے کے واقعے سے قومی سطح پر شناخت حاصل کرنے والی زوبیہ خورشید راجا اب ایک اور منفرد انداز میں سیاسی منظرنامے کا حصہ بنی ہیں، جہاں برابر ووٹ آنے کے بعد ٹاس نے انہیں آزاد کشمیر اسمبلی کی نشست دلا دی۔
خواتین کی 5 مخصوص نشستوں میں ن لیگ کی 3، پیپلز پارٹی کی 2 کامیاب
آزاد کشمیر اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص 5 نشستوں پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی مریم کشمیری، سحرش قمر اور مریم ادریس کامیاب قرار پائیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجا نے کامیابی حاصل کی۔
یوں خواتین کی 5 مخصوص نشستوں میں مسلم لیگ ن کو 3 جبکہ پیپلز پارٹی کو 2 نشستیں ملیں۔
مخصوص نشستوں کے مجموعی نتائج میں مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں حاصل کیں، جن میں خواتین کی 3، ٹیکنوکریٹ کی ایک، علما و مشائخ کی ایک اور اوورسیز کی ایک نشست شامل ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے خواتین کی 2 نشستیں حاصل کیں۔

زوبیہ خورشید راجا کی کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ ان کے سیاسی سفر میں زخمی پولیس اہلکار کی جان بچانے کا واقعہ، تمغۂ شجاعت کی منظوری اور اب ٹاس کے ذریعے اسمبلی رکن بننا تین نمایاں حوالوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔












