بھارت میں متعین امریکی سفیر سرجیو گور نے بھارتی میڈیا میں من گھڑت خبروں اور سنسنی خیزی کی روایت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد، اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر زبردست سیاسی و صحافتی حملہ کیا ہے۔ اس بار ان کے نشانہ بنانے کی وجہ بھارتی وزیراعظم کی صحافیوں کا سامنا کرنے اور ان کے سوالات کے جوابات دینے سے مسلسل ہچکچاہٹ ہے۔
سفیر سرجیو گور نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جی-7 اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقات سے قبل، بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) نے امریکی حکام سے درخواست کی تھی کہ میڈیا کو صرف کوریج کی اجازت دی جائے اور کسی باقاعدہ پریس کانفرنس یا سوال و جواب کے سیشن کا اہتمام نہ کیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اس درخواست سے اتفاق کیا، لیکن بعد میں ملاقات کے دوران انہوں نے غیر متوقع طور پر فلور صحافیوں کے لیے کھول دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک 45 منٹ طویل غیر اسکرپٹ شدہ نشست منعقد ہوئی جس میں صحافیوں نے گوناگوں اور اہم مسائل پر تفصیلی سوالات کیے۔
اس پیشرفت نے ایک بار پھر یہ سنگین سوال اٹھا دیا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت صحافیوں کے غیر اسکرپٹ شدہ اور آزادانہ سوالات سے اپنے آپ کو اتنی غیر محفوظ کیوں سمجھتی ہے اور بے چینی کیوں محسوس کرتی ہے؟
تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے رہنما کا ہونا انتہائی شرمندگی کا باعث ہے جو ٹیلی پرامپٹر کی مدد کے بغیر ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔














