بھارتی شہر کانپور کے انڈسٹریل ایریا میں زائدالمیعاد چاکلیٹس اور ٹافیاں کوڑے میں پھینکے جانے کے بعد انہیں اٹھانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ درجنوں افراد کوڑے کے مقام پر موجود چاکلیٹس اور ٹافیاں جمع کر رہے ہیں۔ کچھ افراد زمین سے ہاتھوں میں مٹھائیاں اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بعض لوگ تھیلے، بوریاں اور خالی ڈبے ساتھ لائے اور بڑی مقدار میں چاکلیٹس اپنے ساتھ لے گئے۔
This is beyond comprehension.
A chocolate factory in Kanpur throws away expired chocolates, and people rush to take them home.
How people reached this point ? People need to stop treating “free” as automatically worth taking.🤮 pic.twitter.com/HxEMQY4ULr
— Vineeth K (@DealsDhamaka) August 24, 2026
ویڈیو کے ساتھ کیے جانے والے دعووں کے مطابق فیکٹری مالک نے چاکلیٹس اور ٹافیوں کی ایک کھیپ زائدالمیعاد ہونے یا فروخت کے قابل نہ رہنے کے باعث تلف کرنے کے لیے کوڑے میں پھینکی تھی۔ اطلاع پھیلنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی اور چاکلیٹس اٹھانا شروع کردیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ آخر یہ لوگ ان زائدالمیعاد چاکلیٹس اور ٹافیوں کا کیا کریں گے؟
कानपुर में एक्सपायर टॉफी चॉकलेट किसी दुकानदार ने कूड़े में फेंकवा दी। लोगों की नजर पड़ी तो का कचरे में ही कूद पड़े और सारा एक्सपायरी माल घर उठा ले गए।
वैसे ये करेंगे क्या? pic.twitter.com/ne8bT4qeor
— Shivani Sahu (@askshivanisahu) August 25, 2026
کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ زائدالمیعاد خوراک کو کھلے عام پھینکنے کے بجائے محفوظ طریقے سے تلف کیا جانا چاہیے تھا، تاکہ اسے دوبارہ استعمال یا فروخت نہ کیا جاسکے۔














