سپریم کورٹ نے سندھ میں قتل کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی سکھر کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے اغوا برائے تاوان کے ملزم کو 12 سال بعد بری کردیا
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے سندھ پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جزا و سزا کا کوئی تصور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس خود لوگوں کو بری کروانے کا سبب بن رہی ہے اور بہت سے مقدمات میں پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے بھی کتراتی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تو جانوروں کو بھی نہیں مارا جاتا، زیرِ سماعت کیس میں قتل کے 2 روز بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں پاکستان کے پہلے کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر کا افتتاح
جسٹس صلاح الدین پنہور نے بھی سندھ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکھر اور لاڑکانہ کی صورتحال تو بہت ہی خراب ہے۔
عدالت نے وکلا کو مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔














