دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال کی تیسری منزل پر آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے متعدد افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر عمران سکندر نے 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، تاہم ابتدائی اطلاعات میں کمپریسر میں خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ صبح تقریباً 7 بجے پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقع مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے وارڈ میں لگی۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں، آگ پر قابو پانے کے لیے 6 فائر ٹینڈرز اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 19 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں 10 خواتین، 7 بچے اور 2 مرد شامل ہیں۔
🚨 TRAGIC: Fire at PIMS Hospital in Islamabad Kills 15 Newborns
AC compressor explosion in the gynecology ward sparks deadly blaze.#PIMS #Islamabad #Pakistan #BreakingNews@MarioNawfal pic.twitter.com/Z2exHnPX3J— DR ADNAN ALI (@DrMalko) August 26, 2026
ایک نومولود سمیت کئی افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ نرسری کے قریب کمپریسر میں خرابی کے باعث لگی اور ایئر کنڈیشننگ کمپریسر پھٹنے سے صورتحال سنگین ہوگئی۔
تاہم پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

کمیٹی آتشزدگی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے حکام بھی پمز اسپتال پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
آگ پر قابو پانے کے بعد اسپتال میں کولنگ کا عمل بھی جاری رہا۔













