پی ٹی اے کا پری پیڈ صارفین کے لیے اہم فیصلہ، ریچارج بیلنس کی کم از کم 180 دن کی مدت مقرر

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں پری پیڈ موبائل صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام سیلولر موبائل آپریٹرز کو ہر ریچارج یا بیلنس کے لیے کم از کم 180 دن کی میعاد مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ نئے ضابطے کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ تعین کے مطابق پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد سیلولر موبائل صارفین پری پیڈ سروس استعمال کرتے ہیں۔

اتھارٹی نے قرار دیا کہ غیر استعمال شدہ بیلنس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی ضبطی سے بالخصوص کم آمدنی والے صارفین متاثر ہوتے ہیں اور انہیں براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کا غیر قانونی انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

نئے فیصلے کے تحت تمام موبائل آپریٹرز کسی بھی رقم کے ریچارج یا بیلنس کے لیے کم از کم 180 دن کی بیلنس ویلیڈیٹی فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

مزید برآں، اگر کسی فعال سم پر موجود بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے تو صارف کے آئندہ ریچارج کرتے ہی وہ بیلنس خودکار طور پر بحال اور قابل استعمال کردیا جائے گا۔

پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز کو اس فیصلے پر عملدرآمد کے دوران کسی بھی غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار سے بھی روک دیا ہے۔

مزید پڑھیں: موبائل بیلنس تیزی سے ختم ہو رہا ہے؟ پی ٹی اے نے وجہ جاننے کا آسان طریقہ بتا دیا

یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد کیا گیا، جن میں میعاد ختم ہونے پر پری پیڈ بیلنس کے ضائع ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر پی ٹی اے نے پہلے عوام، صارفین اور موبائل آپریٹرز سے تجاویز طلب کی تھیں۔

مشاورت میں ایک تجویز یہ تھی کہ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہے، جبکہ دوسری تجویز میں غیر استعمال شدہ بیلنس کو صارف کے شناختی کارڈ سے منسلک کرکے نئی سم پر بحال کرنے یا رقم واپس کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: کونسی سمیں بند ہونے والی ہیں؟ پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا

عوام کی اکثریت نے بیلنس کو سم کی فعال مدت تک برقرار رکھنے کی حمایت کی اور اسے صارفین کی محنت کی کمائی قرار دیا۔

تاہم بیشتر موبائل آپریٹرز نے شناختی کارڈ کی بنیاد پر بیلنس بحالی کے طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہوئے تکنیکی پیچیدگیوں، فراڈ کے خدشات، ملکیت کے تنازعات اور اضافی اخراجات کا حوالہ دیا۔

پی ٹی اے کے مطابق بین الاقوامی تجربات بھی صارفین کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انٹرنیٹ ٹریفک کی لوکلائزیشن لازمی، پی ٹی اے کا نیا فریم ورک نافذ

اتھارٹی نے برطانیہ میں بعض موبائل کمپنیوں کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی فعال سم کے ساتھ پری پیڈ بیلنس کے تحفظ اور بعض حالات میں غیر استعمال شدہ بیلنس کی واپسی کی سہولت موجود ہے۔

پی ٹی اے نے قرار دیا کہ کم از کم بیلنس ویلیڈیٹی اور ریچارج پر میعاد ختم ہونے والے بیلنس کی بحالی کا نظام صارفین کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور موبائل آپریٹرز کی تجارتی پائیداری کو بھی متاثر نہیں کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ