نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں سیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے، جبکہ نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر 903 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ نیپال میں 2,500 سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں سینکڑوں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔
نیپال میں حکام نے سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں میں چین اور بھارت کے ماہرین بھی شامل ہیں، جو سرنگوں کے اندر موجود افراد سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف
حکام کے مطابق تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں امدادی کارکنوں نے سرنگ میں داخل ہونے کے لیے ایک سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ نیپال میں لاپتا ہونے والے 2,500 سے زائد افراد میں سینکڑوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملک کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرتے تھے۔ لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں سرکاری طور پر 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف غیرملکی شہری بتائے جاتے ہیں۔ شگاتسے میں امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نیپال سیلابی ریلے میں 85 امریکی شہری لاپتا ؟، محکمہ خارجہ نے ہنگامی امداد کا اعلان کردیا
سیلاب سے نیپال کے 3 سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں کم از کم 19 اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے مطابق 9 اسکول مکمل طور پر تباہ جبکہ 7 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبہ کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تازہ جائزے کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتا جبکہ تقریباً 20 سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ راسووا اور نواکوٹ اضلاع کے متعدد اسکول، جہاں 2,425 طلبہ زیرتعلیم تھے، سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے۔ ایک اسکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ سیلاب اس کی ایک طالب علم کو لے جانے والی بس بھی بہا لے گیا۔













