پاکستانی کوہ پیما اسما مشتاق کی میت اسپانٹک چوٹی سے بالآخر برآمد کرلی گئی

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت: پاکستانی کوہ پیما اسما مشتاق کی میت گلگت بلتستان کی 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سے تقریباً 10 روز بعد برآمد کرلی گئی ہے۔

34 سالہ اسما مشتاق 20 اگست کو اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران شدید بلند مقام کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث انتقال کرگئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپانٹک چوٹی پر پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے بلند پہاڑی علاقوں میں کوہ پیمائی کے ماہرین پر مشتمل 5 رکنی ٹیم نے جمعے  کے روز میت کی تلاش اور واپسی کے لیے نیا آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی میت کی واپسی کے لیے کوششیں کی گئی تھیں، تاہم شدید برفباری کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔

ایاز شگری کے مطابق نئی ٹیم میں محبوب، حسین علی، مظاہر حسین، محبوب علی، محمد عابدین اور عباس علی شامل تھے، جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آپریشن مکمل کیا۔ ٹیم کے ارکان کا تعلق شگر کے علاقے ارندو سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی

ریسکیو ٹیم نے پیر کی صبح 3 بجے کارروائی شروع کی اور تقریباً 8 گھنٹے کی تلاش کے بعد صبح 11 بجے اسپانٹک چوٹی کے کیمپ 3 کے قریب سے اسما مشتاق کی میت تلاش کرلی۔ یہ مقام تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

ایاز شگری نے بتایا کہ میت کو پیر ہی کے روز کیمپ 2 تک لانے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد بیس کیمپ پہنچنے پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت کو اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔

اسما مشتاق 5 رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس مہم کا حصہ تھیں جس نے اسپانٹک چوٹی سر کی تھی۔ ان کے ہمراہ کوہ پیما زونی اسلم، زبا شگری، شما اور سوہانا بھی مہم میں شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی بلند ترین چوٹی ’سروالی‘ آج تک سر کیوں نہ کی جاسکی؟

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اسما مشتاق نے کامیابی سے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کی تھی اور اس وقت ان کی صحت بھی بہتر تھی، تاہم واپسی کے دوران تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر انہیں شدید طبی ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی سے کسی کوہ پیما کی میت واپس لانا انتہائی خطرناک اور مشکل کام ہوتا ہے، جبکہ شدید برفباری اور خراب موسمی حالات اس عمل کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp