اسپانٹک چوٹی پر پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی تلاش کے لیے ریکوری ٹیم اسپانٹک چوٹی پر اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں میت برف تلے دبے ہونے کا شبہ ہے، جبکہ میت نکالنے کا آپریشن جاری ہے۔

34 سالہ کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق 20 اگست کو اسپانٹک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، سے واپسی کے دوران بلند مقام پر پیدا ہونے والی بیماری کے باعث جاں بحق ہوئی تھیں۔ ان کی میت قریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ تھری میں موجود ہونے کی اطلاع تھی۔

شدید موسمی حالات کے باعث اس سے قبل میت کی تلاش اور اسے واپس لانے کی کوششیں متاثر ہوئی تھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ سرچ ٹیم اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں میت کی موجودگی کا شبہ تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مقام بہت وسیع ہے اور گزشتہ 2 روز کے دوران ہونے والی شدید برفباری کے باعث میت مکمل طور پر برف تلے دب گئی ہے، جس کی وجہ سے اسے تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق نے چوٹی سر کرنے کے دوران کامیابی سے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی کو سر کیا تھا اور اس وقت ان کی صحت اچھی تھی۔

تاہم واپسی کے دوران قریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر انہیں شدید نوعیت کی بلند مقام سے متعلق طبی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

بلند مقام کی بیماری میں پھیپھڑوں اور دماغ سے متعلق مختلف طبی پیچیدگیاں شامل ہوتی ہیں، جو جسم میں آکسیجن کی کمی کے باعث تیزی سے بلندی پر جانے اور مناسب جسمانی موافقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ایاز شگری نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ڈاکٹر اسما مشتاق 5 رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس مہم کا حصہ تھیں جس نے اسپانٹک چوٹی سر کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میت بیس کیمپ پہنچنے کے بعد پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اسے اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔

دوسری جانب ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم کے انداز میں آنے والی تبدیلیوں نے قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی چوٹیوں پر حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں، جس سے کوہ پیماؤں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp