میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل کا کیس ہے، تفتیشی افسر

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا کی ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے واضح کیا ہے کہ پولیس اس معاملے کو خودکشی نہیں بلکہ قتل کا کیس سمجھ کر تفتیش کررہی ہے، جبکہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پیر کے روز سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس عدنان کریم میمن نے  میر رضا کیس کی سماعت کی، تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جارہی ہے اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پنجاب سے فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

تفتیشی افسر کے مطابق 13 اگست کو تفتیش دوبارہ شروع کی گئی اور معاملے کو صفر سے دیکھا جارہا ہے۔ تفتیش کے دوران گولی کا خول بھی برآمد ہوا، تاہم اسلحہ تاحال نہیں مل سکا۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں خودکشی کا امکان مسترد کردیا گیا ہے، جبکہ تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ میر رضا آخری مرتبہ کہاں گئے تھے۔

میر رضا کے اہلخانہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ کیس کی غیرجانبدار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ادارے کیس کی مؤثر تحقیقات میں ناکام رہے ہیں اور اب تک کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا۔

جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ کیس کو اعلیٰ سطح پر متاثر کیا گیا اور 6 اگست تک پولیس میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دیتی رہی۔ انہوں نے شواہد ضائع کیے جانے اور جائے وقوعہ کے قریب موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ محفوظ نہ کیے جانے کا بھی الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیر و نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی کوئی شق موجود نہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے حقائق جاننے کے لیے پہلے ہی عدالتی کمیشن قائم کردیا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ سید غلام شبیر شاہ نے بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے تفتیشی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

عدالت نے سماعت کے دوران عدالتی کمیشن اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کردار میں فرق سے متعلق سوالات بھی کیے اور پوچھا کہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور شواہد ضائع کیے جانے کے الزامات کی تحقیقات کون کرے گا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش 7 ستمبر تک جاری رکھی گئی ہے اور اس کے بعد رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش میں جو کچھ سامنے آئے گا وہ عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری

سندھ ہائیکورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سماعت کے بعد جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اہلخانہ عدالتی کمیشن کے قیام کے خلاف نہیں، تاہم اس کے دائرہ کار میں مزید نکات شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ کمیشن زیادہ مؤثر انداز میں کام کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کی فوری کوشش عدالتی کمیشن کے دائرۂ کار کو وسیع کرانے کی ہوگی، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp