دھاتوں کی تلاش کے شوقین 2 افراد نے نیویارک کی ایک جھیل سے ایک ایسی ’تعلیمی انگوٹھی‘ دریافت کی جو 28 سال قبل جھیل میں ایک پکنک کے دوران گم ہوگئی تھی۔
مائیکل سیگل اور ڈیلن لاپور گریٹ ساکانڈاگا جھیل میں دھاتی اشیا تلاش کر رہے تھے کہ انہیں ریڈ کریک ہائی اسکول کی 1988 کی کلاس کی یادگاری انگوٹھی ملی۔
ڈیلن لاپور نے بتایا کہ دھاتی ڈیٹیکٹر سے سگنل ملنے کے بعد انہوں نے ایک پتھر کو الٹا تو انگوٹھی وہیں پڑی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ہالی ووڈ نے امریکیوں کو خلائی مخلوق پر یقین کرنے کے لیے تیار کردیا؟
انہوں نے انگوٹھی کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کیں تاکہ اس کے اصل مالک کو تلاش کیا جاسکے۔ کافی عرصے تک کوئی سراغ نہ ملنے پر دونوں افراد نے ریڈ کریک ہائی اسکول سے رابطہ کیا۔
جہاں اسکول کی ایک سیکریٹری نے فوری طور پر انگوٹھی کے مالک کی شناخت کرلی، یہ انگوٹھی سابق طالبہ کم راسبیک کی تھی۔
يضيع منك شي وبعد سنين طويلة تلقاه !
في نيويورك، عثر شخصان يستخدمان أجهزة كشف المعادن على خاتم تخرج من دفعة 1988 في قاع بحيرة.
الخاتم كان مفقودًا منذ 28 سنة!
بحثا عن صاحبته حتى عثرا عليها… والمفاجأة أنها كانت قد فقدته أثناء يوم قضته مع أصدقائها في البحيرة قبل كل هذه السنوات.… pic.twitter.com/rVniG22OHx
— yahia (@yahiahusain) September 1, 2026
راسبیک نے بتایا کہ وہ 28 سال قبل دوستوں کے ہمراہ جھیل پر دن گزارنے گئی تھیں، اسی دوران ان کی انگوٹھی گم ہوگئی تھی۔
راسبیک نے کہا کہ انہوں نے انگوٹھی واپس بھیجنے کے اخراجات ادا کرنے کی پیشکش کی، تاہم دونوں افراد نے رقم لینے سے انکار کردیا۔
مزید پڑھیں: دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا
ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ انگوٹھی اس کی اصل مالک تک واپس پہنچ جائے۔
مائیکل سیگل نے کہا کہ گمشدہ اشیا کو ان کے مالکان تک واپس پہنچانا ہی ان کے شوق کا ایک اہم حصہ ہے۔
’خوشی ہے کہ میں یہ انگوٹھی اس تک واپس پہنچانے میں کامیاب ہوا۔ ہم یہاں انگوٹھیاں اور دوسری چیزیں تلاش کرکے ان کے مالکان کو واپس کرتے ہیں، باقی سب ہمارے لیے اضافی خوشی ہے۔‘














