وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے علامہ محمد اسد کو ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز دینے کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ محمد اسد پیدائشی طور پر پاکستانی نہیں تھے، تاہم انہوں نے ایمان اور پختہ یقین کے ساتھ پاکستان کو اپنا ملک منتخب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ محمد اسد: پہلے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر کی کہانی
احسن اقبال نے کہا کہ انہیں سول ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے علامہ محمد اسد کو نشانِ امتیاز کے لیے نامزد کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
سول ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے، مجھے علامہ محمد اسد کو اعلیٰ ترین قومی اعزاز **نشانِ امتیاز** کے لیے نامزد کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
وہ پیدائشی طور پر پاکستانی نہیں تھے، لیکن انہوں نے اپنے ایمان اور پختہ یقین سے اس ملک کو چنا。 وہ حقیقت میں پاکستان کے فکری شریکِ بانی… pic.twitter.com/bin1boGI8C
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) August 31, 2026
انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اسد پاکستان کے فکری بانیوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ’علامہ اقبال کی ہدایت پر محمد اسد نے پاکستان کی فکری بنیادیں استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
مزید پڑھیں: اسٹریٹجک اداروں کے سائنسدانوں اور انجینیئرز کو شاندار خدمات پر سول ایوارڈز سے نواز دیا گیا
احسن اقبال کے مطابق علامہ محمد اسد نے پاکستان کا پہلا پاسپورٹ حاصل کیا، اقوام متحدہ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا اور ’دی میسج آف دی قرآن‘ جیسی عظیم علمی تصنیف قوم کو دی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ علامہ محمد اسد کو نشانِ امتیاز کے لیے نامزد کرنا محض ایک اعزاز نہیں بلکہ یہ اس عظیم شخصیت کی پاکستان کے لیے محبت، جذبے اور قربانیوں کو قوم کی جانب سے خراجِ تحسین ہے۔














