گیند کا گُر: لیجنڈ کرکٹر صادق محمد کی بتائی ہوئی بات آج بھی زندہ

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد کا خیال ہے کہ جدید ڈیوک کرکٹ گیندوں پر جاری بحث میں انگلش کرکٹ کے 5 دہائیوں سے زائد پرانے ایک واقعے کی جھلک نظر آتی ہے جب گیند میں ایک بظاہر معمولی سی تبدیلی نے رنز بننے کی رفتار اور میچوں کے دورانیے پر گہرا اثر ڈالا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’اولڈ از گولڈ‘: ویسٹ انڈین بولرز سے کیسے نپٹنا ہے؟ سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد کے پاکستانی بیٹرز کو مفید مشورے

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صادق محمد نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ تقریباً سنہ 1972 سے سنہ 1978 کے درمیانی عرصے میں انگلینڈ میں کاؤنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ میں کافی رنز بن رہے تھے جہاں غیر ملکی کھلاڑی اور انگلینڈ کے اپنے ٹیسٹ کرکٹرز باقاعدگی سے بڑے اسکور بنا رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت حکام نے کرکٹ گیند کی ساخت میں تبدیلی کرتے ہوئے اس کی سیم کو تقریباً 8ویں انچ تک بلند کر دیا تھا۔

صادق محمد کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی نے بلے اور گیند کے درمیان توازن کو ڈرامائی انداز میں بدل دیا۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ رنز بنانا مسلسل مشکل ہوتا چلا گیا میچ مقررہ وقت سے کافی پہلے ختم ہونے لگے اور بعض کاؤنٹی اور ٹیسٹ میچ محض 2 یا ڈھائی دن میں ہی مکمل ہو جاتے تھے۔ ان کے مطابق میچوں کے مختصر دورانیے کے کاؤنٹیز اور حکام کے لیے مالی اثرات بھی مرتب ہوئے کیونکہ کرکٹ کے کم دنوں کا مطلب آمدنی میں کمی تھا۔

صادق محمد کے مطابق حکام نے بالآخر گیند کو اس کے اصل سیم کے ساتھ دوبارہ استعمال کرنا شروع کیا اور اس کا اثر فوری طور پر سامنے آیا۔ ان کے بقول رنز کا بہاؤ دوبارہ شروع ہو گیا، بلے بازوں کے لیے کریز پر جمے رہنا آسان ہو گیا اور میچ ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ کے مقررہ 3 دن اور ٹیسٹ کرکٹ کے 5 دن تک باقاعدگی سے چلنے لگے۔

50 سے زائد برس بعد انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے اس موسم گرما میں انگلینڈ میں استعمال ہونے والی ڈیوک گیند کے حوالے سے ایک حیرت انگیز حد تک ملتا جلتا مسئلہ اٹھایا ہے۔

مزید پڑھیے: جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

لارڈز میں پاکستان کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے بعد جو روٹ کا کہنا تھا کہ گیندیں گزشتہ سیزنز کے مقابلے میں مختلف محسوس ہو رہی ہیں خاص طور پر ان کی چمک (لیکر) اور سختی کے حوالے سے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ سیم گیند کو اپنی اصل شکل برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے جس کی وجہ سے یہ پچ سے ٹکرا کر زیادہ تیزی سے حرکت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ سیم بال سے مراد کرکٹ کی وہ گیند ہے جس کے درمیان میں ایک ابھری ہوئی سلائی یا لکیر موجود ہوتی ہے۔ کرکٹ کے کھیل میں اس ابھار کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ یہ بولر کو گیند کی سمت بدلنے میں مدد دیتا ہے۔ جب گیند کا یہ ابھرا ہوا حصہ زمین پر ٹپا کھاتا ہے تو گیند سیدھی جانے کے بجائے اچانک دائیں یا بائیں مڑ جاتی ہے جسے کرکٹ کی زبان میں سیم موومن) کہا جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ کرکٹ (ہارڈ بال) میں یہ سلائی قدرتی طور پر چمڑے کے 2 حصوں کو دھاگے سے آپس میں جوڑ کر بنائی جاتی ہے۔ تیز بولرز اس سلائی کا رخ سیدھا رکھ کر گیند پھینکتے ہیں تاکہ ٹپا کھاتے ہی بلے باز کو چکمہ دیا جا سکے۔ اس کے برعکس پاکستان کی مقامی ٹیپ بال کرکٹ میں ٹینس گیند کے درمیان میں الیکٹرک ٹیپ کی کئی تہیں لگا کر ایک مصنوعی سیم تیار کی جاتی ہے۔ یہ ابھری ہوئی ٹیپ بالکل اصلی ہارڈ بال جیسا اثر پیدا کرتی ہے جس سے بولر کو ٹینس گیند سے بھی زبردست کٹ، سوئنگ اور اضافی اچھال (باؤنس) ملتا ہے۔

جو روٹ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اس سال گیندیں کافی مختلف رہی ہیں اور ان کے سیم پر مختلف قسم کی لیکر لگی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ سخت گیند پچ پر زیادہ نمایاں نشانات چھوڑ رہی ہے جس سے میچ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بولرز کو اضافی مدد مل رہی ہے۔

مزید پڑھیں: طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

اس کے نتائج واضح طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ پہلے 2 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ اور پاکستان دونوں ہی انفرادی سینچریاں بنانے میں جدوجہد کرتے دکھائی دیے جبکہ پاکستان اپنی چاروں اننگز میں سے کسی میں بھی 200 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کر سکا۔ اس سیریز میں بلے بازوں کے بجائے بولرز کا غلبہ رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp