امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اوپن اے آئی کے خلاف جاری مقدمے میں مزید سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی نے اس کے خفیہ تجارتی راز استعمال کیے اور شواہد مٹانے کی کوشش کی۔
وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں ایپل نے مؤقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی میں شامل ہونے والے اس کے سابق آئی فون انجینئر چانگ لیو نے کمپنی کی خفیہ معلومات حاصل کرکے انہیں اپنے نئے ادارے میں استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی اوپن اے آئی سے شراکت داری پر ایلون مسک کی دلچسپ ٹویٹ
ایپل کے مطابق کمپنی نے سابق ملازم کے زیر استعمال میک بک کا جائزہ لیا تو اس میں ایپل کے ایک خفیہ سرکٹ خاکے کی موجودگی کا انکشاف ہوا، جسے مبینہ طور پر چانگ لیو نے اوپن اے آئی میں اپنے کام کے دوران استعمال کیا۔
ایپل کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سے ملنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ چانگ لیو کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ اندرونی تحقیقات کی زد میں ہیں، جس کے بعد انہوں نے اوپن اے آئی کی ایک ساتھی کو شواہد مٹانے سے متعلق ہدایات دیں۔ ایپل کے مطابق مذکورہ ساتھی نے بھی ان ہدایات پر عمل کرنے کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی اوپن اے آئی سے شراکت داری، نئے فیچرز کیا ہیں؟
ایپل نے مزید الزام عائد کیا کہ چانگ لیو اور اوپن اے آئی کے دیگر ملازمین اس بات سے آگاہ تھے کہ سابق انجینئر کو ایپل کے بیرونی معلوماتی ذخیرے کے کھاتوں تک غیر مجاز رسائی حاصل تھی۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دیتے ہوئے الزامات کی تردید کی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس ایپل کے کسی تجارتی راز کی ملکیت نہیں اور نہ ہی وہ ایسے راز حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، جبکہ ملازمین کی بھرتی کا عمل صنعت میں رائج معمول کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کا منفرد نظام: ملازمین اب ایک ای میل سے اعلیٰ قیادت تک مسئلہ پہنچا سکتے ہیں
اوپن اے آئی نے پہلے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایپل کی فائلوں تک سابق ملازم کی رسائی ایپل کی جانب سے ملازمین کے ادارہ چھوڑنے کے بعد نظام اور آن لائن معلوماتی ذخیرے تک رسائی بروقت ختم نہ کرنے کا نتیجہ تھی۔
دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان قانونی تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب اوپن اے آئی نے ایپل کے سابق انجینئرز اور ڈیزائنرز کی بڑی تعداد کو ملازمت دی ہے، جن میں ایپل کے سابق ڈیزائن سربراہ جونی آئیو بھی شامل ہیں۔














