ڈی ایچ اے جھگڑا کیس: مقدمے کے اندراج کی درخواست پر ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو نوٹس

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے فیز 6 میں اپارٹمنٹ کے رہائشیوں کے درمیان جھگڑے کے معاملے میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر جنوبی زون کے ایس ایس پی اور درخشاں تھانے کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

عدالت میں درخواست ایک خاتون نے دائر کی، جسے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا گیا تھا۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس سے درخواست کے باوجود اس کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جبکہ حملہ کرنے کا الزام لگانے والی خاتون کی مدعیت میں پہلے ہی 21 اگست کو مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیفینس کراچی واقعہ: بااثر افراد کے دباؤ پر مقدمہ درج کرنے کا الزام، ایف آئی آر چیلنج

درخواست گزار کے وکیل محمد عارف نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی جائے۔

سیشن کورٹ کے جج عبد الظہور نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جنوبی ایس ایس پی اور درخشاں تھانے کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کیے اور انہیں بدھ تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

درخواست میں سندھ حکومت، درخشاں تھانے کے ایس ایچ او، سب انسپکٹر محمد عمران، جنوبی تفتیشی شعبے کے ایس ایس پی اور مبینہ طور پر حملہ کرنے والی خاتون کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ حملہ کرنے والے افراد بااثر ہیں اور پولیس کارروائی نہ ہونے کے باعث متاثرہ افراد خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ وکیل نے اپنے مؤکلین کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی بھی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی ڈیفنس میں نوجوان کا قتل: 9 سال بعد فریقین کے مابین سمجھوتہ، سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کو بری کرنے کا حکم

وکیل محمد عارف نے بتایا کہ انہوں نے سندھ ہائیکورٹ میں بھی ایک الگ درخواست دائر کی ہے، جس میں درخواست گزار خاتون اور اس کے بھائی کے خلاف درج مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

ان کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور درخواست گزار تحقیقات میں شامل ہوچکے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو درخواست گزاروں کے خلاف مزید کارروائی سے روک دیا اور تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جھگڑے کی ویڈیو اور مقدمہ

واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ایک خاتون کو ہاتھ میں ڈمبل لیے سیڑھیوں سے اترتے اور دوسری خاتون کی جانب بڑھتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ڈمبل سے دوسری خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں پولیس کی وردی میں نظر آنے والے دو افراد بھی دکھائی دیتے ہیں جو تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کو روک رہے ہیں۔ بعد میں ایک شخص سیڑھیوں سے اوپر آتا ہے اور ڈمبل والی خاتون سے بحث کرتا ہے۔

بعدازاں متاثرہ خاتون اور ایک شخص اپنے گھر میں داخل ہوجاتے ہیں، جس کے بعد ڈمبل والی خاتون اور ایک اور شخص دروازہ پیٹتے اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں شلوار قمیض پہنے ایک شخص وردی میں موجود افراد میں سے ایک کی جانب سے دی گئی چیز سے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم 21 اگست کو درخشاں تھانے میں درج مقدمے میں واقعے کی مختلف تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب، سابق شوہر فرار

مقدمہ رات ایک بج کر 40 منٹ پر ایک خاتون کی شکایت پر درج کیا گیا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی تھیں۔ جنوبی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید اسد رضا کے مطابق مبینہ طور پر سونے کے زیورات کی چوری سے متعلق دفعہ 382 بعد میں مقدمے سے نکال دی گئی، کیونکہ واقعہ بظاہر تشدد کا معاملہ تھا۔

مقدمے کی مدعی خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عمارت کی چوتھی منزل پر رہتی ہے جبکہ ایک شخص، اس کی بہن اور والدہ تیسری منزل پر رہتے ہیں۔ شکایت کے مطابق تینوں افراد پارکنگ کے معاملے پر ان کے دروازے پر آئے، دروازے کو لاتیں ماریں اور گالم گلوچ کی۔

خاتون کے مطابق دروازہ کھولنے پر تینوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیں، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور بھائی اور بہن کو حراست میں لے لیا، جبکہ ان کی والدہ وہاں سے چلی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp