سانس پھولنے کو معمولی نہ سمجھیں، سی او پی ڈی کے بارے میں اہم باتیں، خطرہ کن کو زیادہ؟

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانس لینے میں دشواری کو اکثر بڑھتی عمر یا معمولی جسمانی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات یہ ایک ایسی بیماری کی علامت ہوسکتی ہے جو وقت کے ساتھ پھیپھڑوں کی کارکردگی کو مسلسل متاثر کرتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

اس بیماری کو سی او پی ڈی کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل کئی ایسی ترقی پذیر بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جو سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہیں۔ اس کی دو عام اقسام دائمی برونکائٹس اور ایمفیسیما ہیں۔

سی او پی ڈی کی نمایاں علامات میں سانس پھولنا اور کھانسی شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ معمول کے روزمرہ کام، حتیٰ کہ کپڑے پہننا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کے بارے میں کئی غلط فہمیاں عام ہیں۔ آئیے ان میں سے 11 اہم غلط فہمیوں اور ان کی حقیقت جانتے ہیں۔

1۔ سی او پی ڈی ایک نایاب بیماری ہے

یہ تصور درست نہیں کیوں کہ سی او پی ڈی کوئی نایاب بیماری نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2019 میں سی او پی ڈی کے باعث دنیا بھر میں 32 لاکھ 30 ہزار اموات ہوئیں اور یہ دنیا میں موت کی تیسری بڑی وجہ تھی۔

امریکا میں سی او پی ڈی موت کی چوتھی بڑی وجہ ہے اور 16 ملین سے زیادہ افراد میں اس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیے: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ افراد ایسے ہوسکتے ہیں جنہیں بیماری لاحق ہونے کے باوجود ابھی تشخیص نہیں ہوئی۔

امریکن لَنگ ایسوسی ایشن کے مطابق جن افراد کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، بار بار سانس کی نالی کے انفیکشن، زیادہ مقدار میں بلغم یا سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز آنے کی شکایت ہو، انہیں ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اسپائرومیٹری نامی سانس کا ٹیسٹ کروانے پر غور کرنا چاہیے جس سے سی او پی ڈی کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔

2۔ صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو سی او پی ڈی ہوتی ہے

یہ درست ہے کہ تمباکو نوشی سی او پی ڈی کی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن صرف یہی واحد وجہ نہیں۔

ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، کام کی جگہ پر آلودگی یا مضر ذرات سے واسطہ، بعض انفیکشنز اور دمے کی کچھ اقسام بھی اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

ایک ماہر کے مطابق تقریباً 10 سے 20 فیصد سی او پی ڈی کے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔

مزید پڑھیں: سانس زندگی کا پہلا اور آخری عمل: بہتر صحت کے لیے آسان اور مؤثر بریتھنگ ٹیکنیکس

ایسے افراد میں دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کا زیادہ سامنا، موروثی عوامل، خصوصاً الفا ون اینٹی ٹرپسِن کی کمی اور فضائی آلودگی میں طویل عرصے تک رہنا اہم عوامل ہوسکتے ہیں۔

الفا ون اینٹی ٹرپسِن ایک ایسا خامرہ ہے جو جسم کو مدافعتی نظام کے بعض نقصانات سے بچانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ بعض افراد میں اس خامرے کو بنانے والے جین میں تبدیلی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی کمی پیدا ہوجاتی ہے اور سی او پی ڈی سمیت بعض دوسری بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

3۔ صرف بڑی عمر کے افراد کو سی او پی ڈی ہوتی ہے

سی او پی ڈی بڑی عمر کے افراد میں زیادہ عام ضرور ہے لیکن نوجوان اس سے محفوظ نہیں۔

امریکا میں سنہ 2007 سے سنہ 2009 کے دوران 24 سے 44 سال کی عمر کے افراد میں بھی سی او پی ڈی کے کیسز سامنے آئے۔ حتیٰ کہ 18 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بھی یہ بیماری پائی گئی۔

ماہرین کے مطابق 50 سال سے کم عمر میں سی او پی ڈی کی تشخیص پانے والے افراد کی ایک قابل ذکر تعداد میں بیماری کی وجہ موروثی الفا ون اینٹی ٹرپسِن کی کمی ہوسکتی ہے۔

4۔ سی او پی ڈی صرف پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے

یہ بھی درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق سی او پی ڈی کے ساتھ دل کی بیماری، پھیپھڑوں کا سرطان، بلند فشار خون، ہڈیوں کی کمزوری اور ذیابیطس جیسی دیگر بیماریاں بھی موجود ہوسکتی ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض بیماریوں کے خطرے کے عوامل مشترک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سگریٹ نوشی سی او پی ڈی کے ساتھ ساتھ دل کی بیماری کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

اس کے علاوہ سی او پی ڈی کے ساتھ جسم میں پیدا ہونے والی وسیع پیمانے کی سوزش بھی دیگر بیماریوں کے خطرے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

5۔ سی او پی ڈی کے مریض ورزش نہیں کرسکتے

یہ تاثر بھی درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق مناسب رہنمائی کے بغیر سی او پی ڈی کے مریضوں کے لیے جسمانی ورزش مشکل ہوسکتی ہے لیکن ڈاکٹروں کی نگرانی اور مناسب طریقے سے کی جانے والی ورزش دراصل فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

ورزش سانس لینے کی صلاحیت بہتر بنانے اور روزمرہ علامات میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔

پھیپھڑوں کی بحالی کے پروگراموں میں عموماً جسمانی ورزش کے ساتھ سانس لینے کی مخصوص تکنیکیں بھی سکھائی جاتی ہیں تاکہ مریض کی صحت اور روزمرہ زندگی میں زیادہ بہتری لائی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے: بچوں میں سانس روکنے کے دورے: وجوہات، علامات، ابتدائی طبی امداد اور احتیاطی تدابیر

ایک ماہر کے مطابق ورزش سی او پی ڈی کے لیے ایک طرح کا علاجی ذریعہ ہے جو بیماری کے اچانک بگڑنے کے واقعات کم کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم مریضوں کو ورزش شروع کرنے یا اپنے معمول میں تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

6۔ سی او پی ڈی کا کوئی علاج نہیں

یہ خیال بھی ایک غلط فہمی ہے کہ سی او پی ڈی کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اگرچہ سی او پی ڈی کا مکمل خاتمہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا لیکن بیماری کی رفتار اور علامات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد علاج اور حکمت عملیاں دستیاب ہیں۔

ان میں ادویات، پھیپھڑوں کی بحالی، مناسب غذا اور سانس کے انفیکشن سے بچانے والی ویکسینز شامل ہیں۔

مریض کی حالت کے مطابق سانس کی نالی کو کھولنے والی ادویات، اینٹی کولینرجکس، کورٹیکوسٹیرائڈز اور اضافی آکسیجن بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

الفا ون اینٹی ٹرپسِن کی کمی والے بعض مریضوں کو اس کی اضافی مقدار دینے سے فائدہ ہوسکتا ہے، جبکہ کچھ انتہائی مخصوص حالات میں پھیپھڑوں کی پیوند کاری بھی زیر غور آسکتی ہے۔

7۔ سی او پی ڈی اور دمہ ایک ہی بیماری ہیں

دونوں سانس کی نالی اور پھیپھڑوں سے متعلق رکاوٹ پیدا کرنے والی بیماریاں ہیں لیکن یہ ایک جیسی نہیں۔

ماہرین کے مطابق دمہ عموماً بچپن میں شروع ہوتا ہے اور اکثر الرجی اور سوزش سے منسلک ہوتا ہے جبکہ سی او پی ڈی عموماً زیادہ عمر میں ظاہر ہوتی ہے اور سگریٹ نوشی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔

تاہم بعض مریضوں میں دونوں بیماریوں کی علامات اور خصوصیات ایک ساتھ بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

سی او پی ڈی بنیادی طور پر پھیپھڑوں کے ہوائی تھیلوں، یعنی الویولی، کو متاثر کرتی ہے اور اس میں عموماً سگریٹ نوشی کے باعث پھیپھڑوں کی لچک کم ہوجاتی ہے۔

اس کے برعکس دمہ بنیادی طور پر سانس کی نالیوں کی ایک دائمی سوزش سے متعلق بیماری ہے۔

اگرچہ دونوں میں بعض علامات ایک جیسی ہوسکتی ہیں لیکن علاج کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں۔

8۔ جسمانی وزن کا سی او پی ڈی سے کوئی تعلق نہیں

یہ بات بھی درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ جسمانی وزن سی او پی ڈی سے وابستہ معذوری اور روزمرہ مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

دوسری جانب معمول سے بہت کم وزن بھی تشویش کی علامت ہوسکتا ہے اور بعض اوقات ایمفیسیما کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ کم وزن بیماری کی خراب پیش گوئی سے بھی منسلک ہوسکتا ہے۔

9۔ سی او پی ڈی ہوجائے تو سگریٹ چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں

یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔

تمباکو نوشی پھیپھڑوں کی کارکردگی میں ہونے والی کمی کو تیز کرتی ہے اور بیماری کی علامات کے اچانک بگڑنے کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے۔

اس لیے سی او پی ڈی کی تشخیص کے بعد بھی سگریٹ نوشی ترک کرنا بیماری کے سفر کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

10۔ سانس پھولنا ہی سی او پی ڈی کی واحد علامت ہے

سانس پھولنا اس بیماری کی ایک اہم علامت ضرور ہے لیکن واحد علامت نہیں۔

مسلسل کھانسی، زیادہ بلغم بننا، سانس کی نالی کے بار بار انفیکشن اور سی او پی ڈی کے ساتھ موجود دوسری بیماریوں کی علامات بھی بیماری کے بڑھنے کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔

اس کے علاوہ نیند کے مسائل، بے چینی، ڈپریشن، درد اور یادداشت یا ذہنی صلاحیت میں کمی بھی بعض مریضوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

11۔ صحت مند غذا سی او پی ڈی میں مدد نہیں کرتی

یہ تصور بھی درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق متوازن اور صحت مند غذا عمومی صحت بہتر بنانے کے ساتھ سی او پی ڈی اور اس سے وابستہ دیگر بیماریوں کے اچانک بگڑنے کے خطرے سے تحفظ میں بھی مدد کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟

سال2020  میں شائع ہونے والے آٹھ مشاہداتی مطالعات کے ایک تجزیے میں صحت مند غذائی عادات کو سی او پی ڈی کے کم پھیلاؤ سے منسلک پایا گیا۔

ایک اور جائزے کے مطابق پھلوں، ممکنہ طور پر غذائی فائبر اور مچھلی کا زیادہ استعمال سی او پی ڈی کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

سی او پی ڈی سے متعلق اہم بات

سی او پی ڈی ایک سنگین اور ڈیولپنگ بیماری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مریض کے لیے کچھ کیا ہی نہیں جاسکتا۔

سگریٹ نوشی ترک کرنا، فضائی آلودگی اور دیگر خطرناک عوامل سے بچاؤ، مناسب ورزش، متوازن غذا، بروقت تشخیص اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال بیماری کی علامات اور روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلسل کھانسی، بار بار سانس کا انفیکشن، غیر معمولی مقدار میں بلغم، سانس پھولنے یا سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز جیسی علامات کو محض عمر یا معمولی کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔

مزید پڑھیے: اکٹھے کھانا صرف روایت نہیں، صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے

بروقت طبی معائنہ اور تشخیص اس بیماری سے بہتر انداز میں نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp