عالمی معیشت کے لیے مصنوعی ذہانت ناگزیر ہے، سیم آلٹمین

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ ممالک اور عالمی معیشتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانا اب ناگزیر ہوچکا ہے، اسے نظر انداز کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے ایک صدی قبل بجلی کو مسترد کردیا جاتا۔

جی 20 کے وزرائے اختراع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیم آلٹ مین نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک کے ہمراہ کہا کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ کیوں ہارے؟ تکنیکی وجہ سامنے آگئی

سیم آلٹمین نے کہا کہ بجلی کے ابتدائی دور میں بھی پیچیدگیاں اور حفاظتی مسائل موجود تھے، تاہم وقت کے ساتھ معاشرہ اس ٹیکنالوجی کا عادی ہوگیا کیونکہ بجلی کے بغیر معمول کی زندگی اور معیشت کا تصور مشکل ہوتا گیا۔ ان کے بقول مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی ایسا ہی رجحان سامنے آسکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے سربراہ نے پیش گوئی کی کہ مصنوعی ذہانت کا وسیع پیمانے پر استعمال دنیا بھر میں کاروبار، جدت اور معاشی سرگرمیوں کی ایک غیر معمولی لہر کو جنم دے گا اور اس سے بڑے پیمانے پر معاشی قدر پیدا ہوگی۔

انہوں نے مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پروان چڑھنے والے بچے ایسی دنیا میں زندگی گزاریں گے جہاں ان کے استعمال میں آنے والی تقریباً ہر خدمت اور مصنوعات میں ذہانت کی صلاحیت بنیادی طور پر شامل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک اور سیم آلٹ مین میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اختلاف، دولت اور پیسے کے کردار پر بحث

اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ دیگر رہنماؤں، جن میں این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی شامل ہیں، نے عالمی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ سخت پابندیوں کے بجائے لچکدار ضوابط اختیار کریں تاکہ ممالک معاشی اعتبار سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار فروغ اور خود ضابطگی پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے زور کے ساتھ مقامی سطح پر اس کی مخالفت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی، سائبر سکیورٹی کے خطرات اور عالمی اداروں، خصوصاً یورپی یونین کی جانب سے بڑھتی ہوئی قانونی نگرانی کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp