موسمیاتی پیشگوئی میں انقلاب، جدید ٹیکنالوجی سے بروقت وارننگ ممکن

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں موسمیاتی پیش گوئیوں اور بروقت ابتدائی انتباہی نظام نے شدید موسم، بارشوں اور سیلاب کے خطرات سے دوچار افراد کو بروقت فیصلے کرنے اور ممکنہ نقصانات کم کرنے میں مدد دینا شروع کردی ہے،۔

دوسری جانب چین کے ساتھ تعاون سے محکمہ موسمیات پاکستان کی پیش گوئی اور وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت مزید بہتر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایک بڑھتا ہوا عالمی بحران اور پاکستان کی آزمائش

پنجاب کے ضلع تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے رہائشی کسان ریاض حسین کئی برس سے بارشوں کے باعث گندم کی فصل کو پہنچنے والے نقصان کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

تاہم رواں سال انہوں نے محکمہ موسمیات کی موسمی پیش گوئیوں اور ہدایات پر باقاعدگی سے عمل کرتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کو موسم کے مطابق ترتیب دیا۔

ریاض حسین کے مطابق وہ بارانی علاقے میں رہتے ہیں اور گزشتہ برسوں میں فصل کی کٹائی کے دوران اچانک بارش کی زد میں آنے سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

تاہم رواں سال انہوں نے فصل کی بوائی سے کٹائی تک محکمہ موسمیات کی ہدایات کو مدنظر رکھا، جس کے نتیجے میں نہ صرف بہتر پیداوار حاصل ہوئی بلکہ مالی نقصان سے بھی بچ گئے۔

مزید پڑھیں: اسمارٹ فارمنگ: مٹی اور کھاد کے بغیر فصلیں اگانا ممکن

اچھی فصل کے بعد ریاض حسین گاؤں کے دیگر کسانوں کے لیے مثال بن گئے ہیں۔ اب مقامی کاشتکار بھی فصلوں کی بوائی، افزائش اور کٹائی کے مختلف مراحل میں محکمہ موسمیات سے موسم کے بارے میں رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے رہائشی رستم بلوچ کے لیے بھی محکمہ موسمیات کی بروقت وارننگ انتہائی اہم ثابت ہوئی۔

انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا گھر سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقے میں واقع ہے۔ انہوں نے وارننگ ملتے ہی اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور قیمتی سامان بھی محفوظ جگہ پہنچا دیا۔

بعدازاں علاقے میں اچانک سیلاب آیا، تاہم بروقت اطلاع کے باعث وہ اپنے خاندان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔

محکمہ موسمیات پاکستان کی پیشگوئی اور ابتدائی وارننگ کی صلاحیت کو چین کے ساتھ تعاون سے مزید تقویت ملی ہے، جس میں چین کا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا موسمیاتی نظام مازو بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تغیر سے چترال کی خواتین کس طرح متاثر ہورہی ہیں؟

پی ایم ڈی کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے ڈائریکٹر فروخ بشیر کے مطابق مازو مشاہداتی اعداد و شمار، عددی موسمیاتی ماڈلز، سیٹلائٹ معلومات اور مصنوعی ذہانت کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔

’جس سے ماہرین موسمیات کو موسم کی صورتحال کا جامع تجزیہ کرنے اور تیز تر و زیادہ مؤثر پیش گوئیاں جاری کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘

پاکستان اس نظام کو حاصل کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل ہے اور یہ تقریباً ڈیڑھ سال سے یہاں استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ماہرین نے چین میں اس نظام کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ اس کی مشترکہ تیاری میں بھی حصہ لیا ہے۔

پی ایم ڈی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ظہیر احمد بابر کے مطابق چین کا تعاون ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی صلاحیتیں بہتر بنانے، خطرات کو بروقت سمجھنے اور کمزور آبادیوں کو شدید موسمی واقعات سے قبل حفاظتی اقدامات کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: نومبر سے سرد موسمیاتی کیفیت کا سامنا ہوگا، موسمی رجحان لانینا کیا ہے؟

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں زراعت موسم پر منحصر ہے اور سیلاب زدہ علاقوں کی آبادی شدید موسمی خطرات سے دوچار رہتی ہے، بروقت پیش گوئی محض معلومات نہیں بلکہ انسانی جانوں، فصلوں اور روزگار کے تحفظ کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp