وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو و ریلوے بلال اظہر کیانی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل سے ملاقات کی، جس میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل، ٹیکس وصولی، صنعتی سرگرمیوں، برآمدات اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف زمینی حقائق اور کاروباری سرگرمیوں کے مطابق مقرر کیے جانے چاہئیں۔ کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت اور بجلی کے بلند نرخ صنعت کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ ملک میں بڑھتا ہوا انفورسمنٹ کلچر بھی کاروباری ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے تیزی سے پھیلاؤ سے زرعی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔ پیرا فورس کے اقدامات بھی کاروباری ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ ایل ڈی اے، روڈا اور ای پی اے کی کارروائیوں سے صنعت متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی صنعتوں کو بھی منتقلی کے نوٹسز دیے جا رہے ہیں، جس سے کاروباری برادری شدید مشکلات کا شکار ہے۔
فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ صنعت اور کاروبار کو ریلیف دیے بغیر معاشی سرگرمیوں میں مطلوبہ تیزی نہیں لائی جاسکتی، اس لیے حکومت کو کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی الزامات سے اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتی، بلال اظہر کیانی
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ لاہور چیمبر وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے اور ملکی معیشت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ٹیکس وصولی، روزگار کی فراہمی اور کاروباری ترقی میں نجی شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے پالیسی سازی میں لاہور چیمبر کی تجاویز کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو پالیسی سازی میں مرکزی کردار دینا وزیراعظم کا وژن ہے اور وزیراعظم گزشتہ ایک سال سے کاروباری برادری کو بھرپور وقت دے رہے ہیں۔ بجٹ سازی کے دوران بھی نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج بھی ختم کردیا گیا جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی چیئرمین شپ نجی شعبے کو دے دی گئی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے ایف بی آر کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس نظام میں بہتری لائی جاسکے۔ دکانداروں کے لیے بھی ’آؤٹ آف دی باکس‘ حل دیا گیا ہے اور 20 کروڑ روپے تک آمدن والے دکاندار ٹیکس اسکیم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔
ملاقات میں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدور میاں انجم نثار اور ملک طاہر جاوید، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عامر علی، سید سلمان، احد امین ملک اور محسن بشیر جبکہ کمشنر ایف بی آر آمنہ کمال اور شبانہ عزیز بھی موجود تھیں۔














