جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔
اتوار کو جاری کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق اے ایف ڈی نے 44.2 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت میں حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) صرف 17.4 فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی نے خفیہ اداروں کو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کرلیا، کن ممالک سے خطرہ ہے؟
تازہ انتخابی تخمینوں کے مطابق 83 رکنی ریاستی پارلیمنٹ میں اے ایف ڈی کو 39 نشستیں ملنے کا امکان ہے، تاہم حکومت بنانے کے لیے اسے 42 نشستوں کی ضرورت ہے۔
اس طرح واضح برتری کے باوجود اے ایف ڈی کو حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Saturday: 2,500 marched through Halle under Antifa flags. Magdeburg threw a “Festival for Democracy” and claimed 15,000.
Sunday: Saxony-Anhalt voted.
AfD: 44%
CDU: 17%
Turnout: record highThat’s not a protest story. That’s a verdict.
The party the street called fascist just…
— Predictivemoney (@Predictivemoney) September 6, 2026
اے ایف ڈی کے سرکردہ امیدوار الریش زیگمنڈ نے نتائج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت نے وہ کامیابی حاصل کرلی ہے جس کا اس نے ہدف مقرر کیا تھا۔ ’ہم نے اس ریاست میں تاریخ رقم کردی ہے۔‘
جماعت کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے بھی نتائج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اے ایف ڈی کو حکومت کرنے کا واضح مینڈیٹ دیا ہے۔
تاہم جرمنی کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اب تک اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد سے انکار کرتی رہی ہیں۔ اس پالیسی کو سیاسی حلقوں میں ’فائر وال‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جرمنی کے مصروف ترین ایئرپورٹ پر مچھروں کا حملہ، ملیریا سے 2 ملازمین جان سے گئے
اے ایف ڈی نہ جرمنی کی 16 ریاستوں میں سے کسی کی حکومت کا حصہ رہی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت میں شامل ہوئی ہے۔
سی ڈی یو کے ریاستی رہنما اور موجودہ وزیر اعلیٰ سوین شولز نے اے ایف ڈی کی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو انتخابی نتائج کے ساتھ جینا ہوگا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون کا ارادہ نہیں رکھتے۔
اے ایف ڈی کی کامیابی کو مشرقی جرمنی میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی، معاشی عدم مساوات اور سابق مشرقی جرمنی سے وابستہ جذبات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: روس کے مبینہ ہائبرڈ حملوں کا خطرہ، جرمنی نے سائبر ڈوم بنانے کا اعلان کردیا
جماعت نے انتخابی مہم میں غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری، سخت امیگریشن پالیسی اور روایتی اقدار کے فروغ جیسے نکات کو نمایاں کیا۔
سیکسنی انہالٹ کی اے ایف ڈی شاخ کو ریاستی داخلی انٹیلیجنس ادارے نے ’دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم‘ قرار دے رکھا ہے، تاہم جماعت اس الزام کو سیاسی بنیادوں پر کیا گیا اقدام قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔
انتخابی نتائج کو چانسلر فریڈرک مرز کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی حکومت کو جرمنی کی کمزور معاشی شرح نمو بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اے ایف ڈی کی تاریخی کامیابی نے ملک میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے درپیش چیلنج کو مزید نمایاں کردیا ہے۔














