وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا کہ حکومت نے کاروباری برادری کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل سے متعلق ان کی آراحاصل کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے سانحہ پمز میں نومولود کو بچانے والی نرس کی ملاقات، حادثے کی ساری روداد سنادی
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشاورت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ ملک نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں داخل ہو چکا ہے جو برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لینے اور ان پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ باتیں نمایاں صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کاروباری برادری کے اراکین کو اجلاس میں خوش آمدید کہا۔
وزیراعظم نے ملک کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے رکاوٹوں کی نشاندہی اور مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے کاروباری برادری کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کاروباری برادری سے مشاورت کے ساتھ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران طویل عرصے سے التوا کا شکار ساختی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، اور اسے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا۔
مزید پڑھیے: کیا پاکستان 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پورا کر سکتا ہے؟
وزیراعظم نے بتایا کہ کسی نئے ٹیکس کے بغیر، صرف نفاذ کے اقدامات کے ذریعے ایک سال کے دوران 800 ارب روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات خصوصاً صارفین کی جانب سے ادا کیے جانے والے بالواسطہ سیلز ٹیکس سے متعلق مقدمات کی پیروی کی گئی اور کہا کہ نفاذ میں اس نوعیت کی بہتری ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ بجٹ سے قبل مختلف معاشی امور پر کاروباری برادری کے ساتھ کئی مراحل میں مشاورت کی گئی تھی جن میں وزیر خزانہ اور وزیر تجارت نے اپنے اپنے سیکریٹریز کے ہمراہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں اس سے پہلے کہ وہ خود ان سے بات چیت کرتے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری نے سابقہ اجلاسوں کے دوران بشمول مشکل ادوار میں جو تجاویز پیش کیں ان سے حکومت کو ساختی تبدیلیاں لانے میں مدد ملی۔ انہوں نے اسے مشترکہ کوششوں سے طے کیا گیا ایک طویل سفر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پہلی بار متعلقہ رعایت فراہم کی اور آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹیکس میں چھوٹ دینے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام اقدامات کاروباری برادری کی مشاورت سے کیے گئے، اور اسے ٹیم ورک کے ذریعے طے کیا گیا ایک طویل سفر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کی رہنمائی اور تعاون سے اسی راہ پر آگے بڑھتی رہے گی۔
مزید پڑھیں: مسائل کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت کا نیا ریکارڈ، صرف ایک ماہ میں پاکستانی برآمدات 1.83 ارب ڈالر سے تجاوز
انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشی نمو کا برآمدات پر مبنی ہونا لازمی ہے اور برآمدات کے بغیر حاصل ہونے والی نمو بے معنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے خصوصی ٹیکس رعایت دی گئی ہے۔














