پاکستان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، یہ کہنا بے عزتی ہے : جو روٹ

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے پاکستان کی ٹیم میں مقابلہ کرنے کا جذبہ نہ ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو ’لڑنے کی صلاحیت سے محروم‘ قرار دینا دونوں ٹیموں کے لیے بے عزتی کے مترادف ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ بدھ سے ایجبسٹن میں شروع ہوگا۔ انگلینڈ کو سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے اور وہ پاکستان کے خلاف سیریز میں کلین سوئپ کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ سے شکست پر پی سی بی کا ایکشن : قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، کوچز اور 7 کھلاڑی فارغ

ہیڈنگلے میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوسرے ٹیسٹ کے بعد 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے اور ٹیسٹ ٹیم کے کوچ سرفراز احمد کو عہدے سے ہٹانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا تھا۔ وائٹ بال ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ 7 نئے کھلاڑیوں کو قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا، جن میں سے 5 نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں قدم نہیں رکھا۔

ایجبسٹن میں پریس کانفرنس کے دوران جو روٹ سے سوال کیا گیا کہ ایسی ٹیم کے خلاف کھیلنا کیسا ہے جو ’کوئی مقابلہ نہیں کررہی‘، جبکہ پاکستان رواں سیریز کی 4 اننگز میں اب تک 200 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہیں کرسکا۔

جو روٹ نے سوال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم قرار دینا دونوں ٹیموں کے لیے بے عزتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کو یقیناً ایک چیلنج کے طور پر لیا ہے۔‘

جو روٹ نے کہا کہ انگلینڈ نے جس طرح اچھی کرکٹ کھیلی اور وکٹوں اور حالات کو تیزی سے سمجھا، اسی وجہ سے پاکستان کو میچوں میں قدم جمانے کا موقع نہیں ملا۔

ان کے مطابق یہ کہنا آسان ہے کہ ایک ٹیم بہترین اور دوسری خراب ہے، لیکن حقیقت عموماً ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہوتی ہے۔

انگلش کپتان نے کہا کہ اگر ایک ٹیم غیر معمولی کارکردگی دکھاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری ٹیم لازماً خراب کھیلی، اسی طرح اگر ایک ٹیم خراب کارکردگی دکھائے تو دوسری ٹیم کی عمدہ کارکردگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 ٹیسٹ میچوں میں جو کچھ ہوا، اس سے قطع نظر ایجبسٹن میں صورتحال بالکل مختلف ہوگی اور انگلینڈ کو نئے مقابلے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف ٹیم کی کارکردگی مایوس کن، نئے کھلاڑیوں کے پاس خود کو منوانے کا بہترین موقع ہے : بابراعظم

جو روٹ نے کہا کہ ’پاکستان کے ڈریسنگ روم میں بہت باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں اور ہمیں ان کے لیے تیار رہنا ہوگا، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم پوری طرح تیار ہوں۔‘

جو روٹ نے بین اسٹوکس کی اچانک بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ مستقل طور پر انگلینڈ کی ٹیسٹ کپتانی سنبھالی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp