بھارت نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے نئے عالمی نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کی نشاندہی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ’بے قاعدگی‘ سے تعبیر کیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں علاقے بھارت کے اٹوٹ حصے ہیں اور نقشے میں ان کی موجودہ انداز میں عکاسی نئی دہلی کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی۔
بھارت کا یہ اعتراض اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 4 ستمبر کو ’کریکٹ دا میپ‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو شدید دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کر لیے
بھارت نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم نئی دہلی نے واضح کیا کہ قرارداد کی حمایت کا مطلب اقوام متحدہ کے کسی مخصوص نقشے کی توثیق نہیں ہے۔
قرارداد کا بنیادی مقصد دنیا کے مختلف خطوں کو ان کے حقیقی رقبے کے زیادہ قریب دکھانے والے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت نے مساوی رقبے کی بنیاد پر نقشہ سازی کے اصول کی حمایت کی ہے، لیکن اس حمایت کو کسی مخصوص نقشے کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
The External Affairs Ministry said on Tuesday (September 8, 2026) that it has taken up the "anomalies" in the world map, used extensively in the United Nations General Assembly (UNGA) during the discussion on the India-backed “Correct the Map” resolution, with the “concerned…
— The Hindu (@the_hindu) September 8, 2026
ان کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرتے وقت اپنے مؤقف کی وضاحت بھی کی تھی۔
نئے نقشے میں اروناچل پردیش کو ایک الگ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے، جبکہ اس کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد بھی ظاہر نہیں کی گئی۔
اسی طرح اکسائی چن کو بھی الگ خطے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بھارت اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ یہ علاقہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔
مزید پڑھیں: نیپال نے 100 روپے کا نیا نوٹ جاری کردیا، بھارت کیوں بوکھلا گیا؟
اقوام متحدہ نے نقشے میں ان مخصوص نشاندہیوں کی کوئی واضح وضاحت نہیں دی، نقشے میں جموں و کشمیر کے حوالے سے لائن آف کنٹرول کو نقطوں والی لکیر سے ظاہر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے ساتھ وضاحت کی ہے کہ یہ لکیر بھارت اور پاکستان کے درمیان طے شدہ لائن آف کنٹرول کی تقریباً نمائندگی کرتی ہے اور جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق نہیں ہوا۔
بھارت نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت اس کے زیر انتظام تمام علاقوں کی نقشے میں عکاسی اس کے سرکاری مؤقف کے مطابق ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: نئے عالمی نظام کے بکھراؤ کے بعد کا غیر یقینی دور
نئی دہلی کے مطابق کسی بھی غلط یا گمراہ کن نقشہ سازی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی ’کریکٹ دا میپ‘ قرارداد کا بنیادی مقصد روایتی مرکٹر پروجیکشن کے مقابلے میں ایسے نقشوں کو فروغ دینا ہے جو براعظموں اور خطوں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کریں۔
مرکٹر نقشہ، جو 1569 میں تیار کیا گیا تھا، قطبی علاقوں کو ان کے حقیقی حجم سے کہیں بڑا دکھاتا ہے، جبکہ خط استوا کے قریب موجود علاقوں کا حجم نسبتاً کم نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کا جی 20 اجلاس: چین کا بائیکاٹ، پاکستان کی سفارتی فتح
2018 میں متعارف کرایا گیا مساوی رقبۂ ارضی نقشہ سازی کا نظام زمین کے مختلف خطوں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں دکھانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی نئی قرارداد اسی اصول کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کرتی ہے، تاہم یہ کسی ملک کی سرحدی یا علاقائی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتی۔














