سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ یاور حسین اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
چیئرمین کمیٹی دلاور خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی اہم فورم ہے، حکومت کی جانب سے کمیٹی کو نظر انداز کرنے کا رویہ ناقابل قبول ہے۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ رانا ثنااللہ آئندہ اجلاس میں شرکت کریں تو ان کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی وزرا کو سینیٹرز کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں:پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں ڈسپلن کے مبینہ مسائل، پی سی بی کی تحقیقات شروع
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے درمیان آٹے کی ترسیل ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے باعث صوبوں کے درمیان تعصب پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ بھارت سے نہیں بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی انہیں کہا کہ کمیٹی میں ان کی وکالت کریں۔ کسی ایک فرد کو پورے صوبے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
رکن کمیٹی حاجی ہدایت اللہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مبینہ بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے متنازع بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فتنۃ الہندوستان ہے، جبکہ سینیٹرز عموماً کمیٹیوں کے اجلاسوں میں آتے ہی نہیں۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے لانگ ٹرم پروگرام
ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاور حسین نے بتایا کہ لانگ ٹرم ایتھلیٹک پروگرام متعارف کرانے کا ارادہ ہے، جسے مرتب کرنے میں مزید 2 سے 3 ماہ لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایتھلیٹ ایک دن میں کامیاب نہیں ہوتا بلکہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں سے گزر کر کامیابی حاصل کرتا ہے۔ فیڈریشنز اسکولوں میں ٹیلنٹ تلاش کریں گی، جبکہ اسکولوں اور کالجوں میں کھیلوں کو فروغ دے کر پروفیشنل ایتھلیٹس سامنے لائے جائیں گے۔
یاور حسین کے مطابق طلبا کو کھیلوں کی اسکالرشپس بھی دی جائیں گی۔ 43 میں سے 16 کھیلوں کی فیڈریشنز نے اسپورٹس پالیسی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اپنا پلان پیش کیا ہے، تاہم ہر فیڈریشن کو لانگ ٹرم ایتھلیٹک پروگرام کے حوالے سے الگ پلان دینا ہوگا۔
مزید پڑھیں:کیا اب بابر اعظم اگلا ہدف ہیں؟ پی سی بی کی تبدیلیوں پر راشد لطیف پھٹ پڑے
سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی نے کہا کہ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن لانگ ٹرم ایتھلیٹ پروگرام میں معاونت فراہم کرے گی۔
فٹبال فیڈریشن کے معاملات بھی زیر بحث
اجلاس میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فٹبال فیڈریشن کے صدر کا معاملہ کافی عرصے سے متنازع ہے۔ فٹبال فیڈریشن میں کوئی صدر بنتا ہے تو اسے دفتر میں کبھی نہیں دیکھا، صدر بننے کے بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فٹبال ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بہترین صلاحیت موجود ہے۔
سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ حکومت فٹبال فیڈریشن کو انفرادی حیثیت دینا چاہتی ہے اور حکومت فیڈریشن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو قانونی طور پر بحال کیا ہے اور فیڈریشن نے بین الاقوامی فنڈنگ بھی حاصل کی ہے۔
ہاکی کی کارکردگی پر سوالات
رکن کمیٹی ایمل ولی نے ہاکی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حالیہ ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم نے ایک بھی گول نہیں کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ کون سا ٹورنامنٹ تھا جس میں ہاکی ٹیم نے ہر گول کھایا۔
ایمل ولی نے کھیلوں کی سہولیات پر بھی سوال اٹھایا۔ اس پر سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ کئی سال بعد پاکستان نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، لیکن صورتحال یہ ہے کہ کسی دکان پر ہاکی اسٹک تک نہیں ملتی۔
انہوں نے بتایا کہ جب موجودہ صدر ہاکی فیڈریشن نے ذمہ داری سنبھالی تو خزانے میں صرف 20 لاکھ روپے تھے، جو اب بڑھ کر 40 کروڑ روپے ہوچکے ہیں۔
سیف گیمز اپریل 2027 میں پاکستان میں ہوں گے
سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے بتایا کہ سیف گیمز 11 اپریل 2027 سے پاکستان میں شروع ہوں گے۔ مقابلوں کے 3 کھیل پشاور، 10 لاہور اور 15 اسلام آباد میں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سیف گیمز کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق ہاکی میں بنوں کے کھلاڑیوں کا فٹنس لیول سب سے بلند ہے۔
پی سی بی بھی کمیٹی میں زیر بحث
اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ رکن کمیٹی ایمل ولی نے سوال کیا کہ چیئرمین پی سی بی وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں، ایسا کیوں ہے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں کیوں نہیں آتا؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی سی بی پہلے بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کے ماتحت تھا، اب کابینہ کے ماتحت کیسے ہوگیا؟
مزید پڑھیں:پی سی بی کا سلیکشن کمیٹی کے رکن کو شوکاز نوٹس، محمد رضوان اور امام الحق کی سلیکشن پر جواب طلب
رکن کمیٹی کاظم علی نے بتایا کہ نگران حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کابینہ کے ماتحت کیا تھا۔ ایمل ولی نے مطالبہ کیا کہ معلوم کیا جائے پی سی بی کو کابینہ کے ماتحت کیوں کیا گیا۔ ایمل ولی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بہت پیسہ ہے۔
ارشد ندیم نے ’بس چھکا مار دیا‘
اجلاس میں ارشد ندیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کے لیے انعامات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ایمل ولی نے کہا کہ فی الحال ارشد ندیم کے علاوہ کوئی دوسرا ایتھلیٹ نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم نے ’بس چھکا مار دیا‘، جبکہ اعلان کردہ انعامات شاید انہیں بھی نہیں ملے۔
سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ آئندہ گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کے لیے پہلے سے انعام مختص کردینا چاہیے۔














