8  سے 10 کیپٹنز کی تبدیلی، پاکستان کرکٹ تباہی کے دہانے پر کیسے پہنچی؟ مشتاق احمد تہلکہ خیز انکشافات

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ سپنر اور موجودہ بنگلہ دیشی کوچ مشتاق احمد نے قومی ٹیم کے حالیہ بحران کی اصل وجہ غیر مستحکم پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی 20 کرکٹ کی پاور ہٹنگ نے بابر اعظم کی تکنیک کو شدید متاثر کیا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ کپتانوں اور کوچز کی بار بار تبدیلی اور ریڈ بال کرکٹ کو نظر انداز کرنے سے پاکستانی کرکٹ آج اس نہج پر پہنچی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ‘کرکٹ کارنر’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق لیجنڈ مشتاق احمد نے پاکستان کرکٹ کے سلگتے ہوئے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی موجودہ جدوجہد محض ایک یا 2 ٹیسٹ میچز یا کسی ایک سیریز میں ناکامی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ برسوں پر محیط ناقص فیصلوں، سلیکشن میں عدم تسلسل اور ریڈ بال کرکٹ کو مسلسل نظر انداز کرنے کا شاخسانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کرکٹ بورڈ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ماتحت تھا، کابینہ کے ماتحت کیسے ہوگیا؟

مشتاق احمد کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے 8 سے 10 کپتان اور تقریباً اتنے ہی کوچز تبدیل کیے ہیں، جس نے ٹیم میں استحکام پیدا ہونے ہی نہیں دیا۔

ایک مضبوط ٹیم بنانے کے لیے تسلسل بے حد ضروری ہے، جہاں ہر کھلاڑی کو اپنا کردار اور بیٹنگ پوزیشن واضح طور پر معلوم ہو۔ شان مسعود اور سلمان علی آغا جیسے کھلاڑیوں کی بیٹنگ پوزیشنز میں بار بار تبدیلی ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔

بابر اعظم کی فارم میں گراوٹ اور ٹی 20 کا اثر

سابق لیجنڈری سپنر نے بابر اعظم کی حالیہ خراب فارم کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے اسے وائٹ بال، بالخصوص ٹی 20 کرکٹ سے جوڑا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بابر نے گزشتہ 3 ، 4 سالوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کی اصل طاقت ہمیشہ ان کی روایتی تکنیک اور شاندار توازن رہا ہے۔

 تاہم  ٹی 20 کرکٹ میں باؤنڈریز کلیئر کرنے اور پاور ہٹنگ کے مسلسل دباؤ نے ان کی بنیادی تکنیک کو خراب کر دیا ہے۔

مشتاق احمد نے مشورہ دیا کہ بابر اعظم کو فوری طور پر اپنی بنیادی اور روایتی تکنیک کی طرف واپس آنا ہوگا۔

انہوں نے ویرات کوہلی، جو روٹ اور کین ولیمسن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان عالمی معیار کے بلے بازوں نے اپنے پورے کیریئر میں اپنی بنیادی تکنیک کو برقرار رکھا ہے۔

بابر اعظم کو بھی ریڈ بال کرکٹ میں زیادہ وقت گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ کب دفاع کرنا ہے، کون سی گیند چھوڑنی ہے اور کب رنز بنانے ہیں۔

بنگلہ دیش کی منصوبہ بندی اور پاکستان کا فقدان

ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر کوچنگ کا تجربہ رکھنے والے مشتاق احمد نے بنگلہ دیش اور پاکستان کی کرکٹ کی منصوبہ بندی کا موازنہ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے لیے باقاعدہ تحقیق اور منصوبہ بندی کرتا ہے، جہاں کوچز، سلیکٹرز اور دیگر عہدیداران مل کر طویل مدتی حکمت عملی بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پی آئی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایم او یو: عارف حبیب اور محسن نقوی کی دلچسپ گفتگو

انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر 2 فاسٹ باؤلرز ان فٹ ہو جائیں یا سپنرز آؤٹ آف فارم ہوں تو ان کا متبادل کون ہوگا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بینچ سٹرینتھ اور متبادل کھلاڑیوں کے حوالے سے فیصلے بہت تاخیر سے کیے جاتے ہیں۔

اسپن باؤلنگ کا گرتا ہوا معیار اور انگلش کنڈیشنز

مشتاق احمد نے پاکستان میں اسپن باؤلنگ کے گرتے ہوئے معیار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں کوئی ایسا عالمی معیار کا اسپنر موجود نہیں جو طویل عرصے تک قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑے ریکارڈز قائم کر سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسامہ میر اور شاداب خان جیسے کھلاڑیوں کو ریڈ بال کرکٹ کے لیے مستقل اور قابلِ اعتماد آپشنز کے طور پر تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ وہاں ‘ڈیوکس’ گیند سوئنگ اور سیم ہوتی ہے۔ ایسے میں آف سٹمپ کا اندازہ ہونا، گیند کو چھوڑنے کی صلاحیت اور مضبوط دفاعی تکنیک انتہائی اہم ہیں۔ ہر گیند پر ڈرائیو مارنے کی کوشش بلے بازوں کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp