بھارت کے دارالحکومت دہلی میں بانجھ پن کے معائنے کے دوران 26 سالہ شادی شدہ شخص کے جسم میں رحم، فیلوپین ٹیوبز اور غیر معمولی طور پر نشوونما پانے والے خصیوں کی موجودگی کا نایاب طبی کیس سامنے آیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مذکورہ شخص کی شادی کو تقریباً 2 سال ہوچکے تھے اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اولاد کے خواہش مند تھے، تاہم کافی عرصے کی کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرنے پر دونوں نے دہلی کے راجوری گارڈن میں واقع آر جی اسپتال سے رجوع کیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کے طبی معائنے کی رپورٹس معمول کے مطابق آنے کے بعد شوہر کے طبی معائنے پر توجہ دی گئی۔ مریض میں مردانہ جسمانی خصوصیات معمول کے مطابق تھیں، تاہم دونوں خصیے اپنی معمول کی جگہ پر موجود نہیں تھے۔
A 26-year-old man who approached RG Hospitals in Rajouri Garden for infertility treatment was found to have a #uterus and fallopian-tube-like structures inside his body, revealing a rare congenital condition that had remained undiagnosed until adulthood, reportedly.
The man was… pic.twitter.com/Nb10x9N3O8
— The Times Of India (@timesofindia) September 11, 2026
طبی ماہرین نے مزید ٹیسٹ کیے تو منی کے تجزیے میں اسپرم کی عدم موجودگی، یعنی ایزو اسپرمیا، سامنے آئی۔ ہارمون ٹیسٹ میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح معمول کے مطابق جبکہ ایف ایس ایچ اور ایل ایچ کی سطح بلند پائی گئی۔
پیٹ کے الٹراساؤنڈ کے بعد ایم آر آئی کی گئی، جس میں پیٹ کے اندر رحم اور فیلوپین ٹیوبز سے ملتی جلتی ساختوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ جینیاتی معائنے میں مریض کا کروموسومل پیٹرن 46، ایکس وائی پایا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو ’پرسیسٹنٹ مولیرین ڈکٹ سنڈروم‘ نامی ایک انتہائی نایاب پیدائشی کیفیت لاحق تھی، جس میں مردانہ جسم میں رحم اور فیلوپین ٹیوبز جیسی ساختیں موجود رہ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی کی مدد سے پوشیدہ ’خزانے‘ کی کامیاب تلاش، بانجھ مردوں کے لیے اچھی خبر
ماہرین نے ممکنہ کینسر کے خطرے کے پیش نظر پیچیدہ سرجری کی، جس کے بعد نکالے گئے ٹشوز کے معائنے میں ایک خصیے میں کینسر سے قبل کی تبدیلیاں بھی سامنے آئیں۔
ڈاکٹر سشیل کھر بندا نے بچوں میں خصیوں کے معمول کی جگہ پر نہ اترنے کی صورت میں بروقت طبی معائنہ کرانے اور بانجھ پن کی صورت میں میاں بیوی دونوں کے طبی معائنے پر زور دیا۔














