پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر رضااللہ نے اپنی محنت اور شاندار کارکردگی سے مقامی کرکٹ سے قومی ٹیم تک کا سفر طے کرلیا، تاہم ان کا کرکٹ کا یہ سفر آسان نہیں تھا بلکہ والد کی مخالفت کے باوجود کھیل سے جنون کی حد تک وابستگی نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رضااللہ کے بڑے بھائی محمد اقبال مشوانی نے بتایا کہ رضااللہ دیر میں پیدا ہوئے اور پانچویں جماعت تک یہیں تعلیم حاصل کی۔
’پرائمری کے بعد بھی انہوں نے دیر ہی سے میٹرک مکمل کیا، والد کی ملازمت کے باعث خاندان بعد ازاں مردان منتقل ہوگیا، تاہم رضااللہ کی کرکٹ سے وابستگی برقرار رہی۔‘
محمد اقبال مشوانی کے مطابق 2017 میں رضااللہ کو کرکٹ کا شوق ہوا جو وقت کے ساتھ جنون میں تبدیل ہوگیا۔
والد کی جانب سے کرکٹ کھیلنے سے منع کیے جانے کے باوجود وہ اکثر گھر سے چھپ کر کھیلنے چلے جاتے تھے، تاہم کھیل سے ان کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ رضااللہ نے دیر کی مقامی کرکٹ میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تقریباً ہر اہم کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کئی ٹورنامنٹس کے فائنلز میں کامیابی حاصل کی اور اپنی عمدہ کارکردگی کے باعث مقامی سطح پر پہچان بنائی۔
محمد اقبال مشوانی کا کہنا تھا کہ دیر سے مردان منتقل ہونے کے بعد بھی رضااللہ نے کرکٹ کا سلسلہ جاری رکھا اور کلب کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے ذریعے اپنی صلاحیتیں ثابت کیں۔
ان کی مسلسل محنت اور کارکردگی انہیں پہلے ریجنل کرکٹ اور بعد ازاں پاکستان سپر لیگ تک لے گئی۔
رضااللہ کے بھائی نے کہا کہ خاندان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ ایک دن انٹرنیشنل کرکٹ کھیلیں گے، تاہم اللہ کے فضل سے ان کا انتخاب قومی ٹیم میں ہوگیا۔
’قومی ٹیم میں شمولیت کا موقع خاندان کے لیے انتہائی جذباتی تھا اور اہل خانہ نے خوشی کے آنسو بھی بہائے اور اس کامیابی کا بھرپور جشن بھی منایا۔‘
انہوں نے کہا کہ رضااللہ اس وقت آل راؤنڈر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں اور خاندان کو امید ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی محنت اور جذبے کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
محمد اقبال مشوانی نے کہا کہ رضااللہ نہ صرف دیر بلکہ اپنے ملک اور قوم کا نام بھی مزید روشن کرے گا اور اس کا سفر نوجوان کرکٹرز کے لیے محنت، لگن اور عزم کی ایک مثال بن سکتا ہے۔













