قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انگلینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 0-3 کی شکست کے بعد خامیوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے اپنی ٹیسٹ کپتانی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مقابلوں کے لیے ہمیں سر جوڑ کر اپنی بہترین پلیئنگ الیون تشکیل دینا ہوگی۔
انگلینڈ کے ہاتھوں سیریز میں کلین سویپ کے بعد میچ پریزنٹیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے واضح کیا کہ وہ بطور ٹیسٹ کپتان اپنی دوسری مدت جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ کی تباہ کن بیٹنگ، پاکستان کی میچ میں واپسی، انگلینڈ کو 130 رنز کا ہدف دے دیا
ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیریز اور کنڈیشنز کے لحاظ سے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، تاہم اس مشکل دورے میں ہماری ٹیم کے نئے اور نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار جذبے کا مظاہرہ کیا ہے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔
اسپنر کی عدم موجودگی اور فاسٹ باؤلنگ پر انحصار
ایجبسٹن ٹیسٹ میں اسپن باؤلر کو شامل نہ کرنے کے سوال پر کپتان نے اپنی حکمت عملی کا دفاع کیا۔
بابر اعظم نے کہا کہ انگلش پچز پر گھاس موجود تھی اور کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے ہی ہم نے 3 فاسٹ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ میں بلے بازوں اور فاسٹ باؤلنگ یونٹ دونوں کے لیے ہمیشہ سخت چیلنجز ہوتے ہیں۔
رضاللہ کی شاندار کارکردگی کا اعتراف
بابر اعظم نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں 81 رنز بنانے اور 4 اہم وکٹیں حاصل کرنے والے 21 سالہ نوجوان کھلاڑی رضاللہ کی خاص طور پر تعریف کی۔
انہوں نے رضاللہ کو ایک ‘بہترین ٹیلنٹ’ قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ سیریز سے قبل وہ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، تاہم ان کی شاندار بولنگ اور بلے بازی نے بہت متاثر کیا ہے۔
آخری اننگز کا ذکر کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ محمد عباس کی جانب سے پہلے ہی اوور میں 2 وکٹیں گرانے سے ٹیم کا مورال کافی بلند ہو گیا تھا، لیکن انگلش بلے بازوں نے دباؤ سے نکل کر بہترین کھیل پیش کیا۔
مزید پڑھیں:ایجبسٹن ٹیسٹ میں شان مسعود کی شاندار 95 رنز کی اننگز، رمیز راجا اور وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیا
انگلینڈ کے اس دورے سے قبل پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اوے ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر کی تھی۔
تاہم، انگلینڈ کے خلاف لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں گرین شرٹس کو ایک اننگز اور 103 رنز کی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس میچ میں بابر اعظم انجری کے باعث شریک نہیں تھے۔
لارڈز میں ہونے والے دوسرے میچ میں بھی بدترین کارکردگی کے بعد دورے کے وسط میں پاکستان نے اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کیں، جس کے تحت 7 کھلاڑیوں سمیت ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل کو بھی تبدیل کر دیا گیا تھا۔
تیسرے اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر مزاحمت کے باوجود انگلینڈ نے 130 رنز کا ہدف محض 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے پاکستان کے خلاف اپنی ہوم گراؤنڈ پر پہلا ‘وائٹ واش’ مکمل کیا۔













