وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیک انڈسٹری کی توسیع کے لیے فائبر کنیکٹیوٹی، موبائل براڈ بینڈ، سپیکٹرم کی دستیابی اور سیٹلائٹ ریگولیپشنز سمیت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کے ثمرات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، شزہ فاطمہ
وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمس) میں امریکی بزنس فورم کے تعاون سے منعقدہ نشست ’پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو اگلے درجے پر لے جانا‘ سے خطاب کر رہی تھیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں نوکریاں اور مواقع موجود ہیں لیکن مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کی شدید کمی ہے۔
قومی ٹیسٹ کے حیران کن نتائج
کمپیوٹر سائنس کے 7ویں اور 8ویں سمسٹر کے تقریباً 33,000 طلبا کا قومی ٹیسٹ لیا گیا جس میں سے صرف 0.4 فیصد طلبا نے 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے جبکہ صرف 4 فیصد طلبا 68 فیصد سے اوپر اسکور کر سکے۔
تعلیمی نصاب میں اصلاحات
انہوں نے K-12 ایجوکیشن سسٹم اور تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے 15 ارب ڈالر کے آئی ٹی برآمداتی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں ’ڈیجیٹل ڈیٹا ایکسچینج‘ بنا رہے ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
فولیو 3 کے چیئرمین عمیر خان نے کہا کہ پاکستان کو صرف فری لانسنگ پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی ٹیک کمپنیاں قائم کرنی چاہئیں جو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں۔ انہوں نے پیش گوئی کے قابل ٹیکس نظام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مطالبہ کیا۔
نالج اسٹریمز کے چیرپرسن ڈاکٹر سید سہیل ایچ نقوی نے موقف اختیار کیا کہ مسئلہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ مارکیٹ میں مقامی کمپنیوں کے لیے مواقع اور سرکاری سطح پر خریداریاں بڑھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ڈائریکٹر اسٹوورٹ پاکستان احمد عظمت نے پاکستان کو ٹیک سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی کمپنی نے ‘نیشنل این ایس ٹی پی سہولت میں اپنے نئے دفتر کے لیے 1.3 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کی ہے۔
مزید پڑھیں: مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ
لمس کی ڈاکٹر ہادیہ مجید انہوں نے نشاندہی کی کہ تکنیکی شعبہ اور فری لانسنگ، کام کے لچکدار اوقات کے باعث خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور روزگار بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔














