پاکستان کے مایہ ناز اسٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم ‘ورلڈ ایتھلیٹکس الٹیمیٹ چیمپیئن شپ’ کے جیولن تھرو ایونٹ میں پانچویں نمبر پر رہتے ہوئے میڈل جیتنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ سری لنکا کے رمیش پاتھیرنگا نے چوتھی کوشش میں شاندار 91.09 میٹر تھرو پھینک کر ٹائٹل جیت لیا۔
دنیا کے ٹاپ 8 ایتھلیٹس کے اس کڑے مقابلے میں ارشد کی جانب سے کی گئی 81.79 میٹر کی تھرو انہیں پوڈیم تک پہنچانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔
Sri Lanka’s Rumesh Tharanga strikes gold in Budapest 🇱🇰🥇
World No. 1 Rumesh Tharanga Pathirage clinched 1st place in the men’s javelin throw at the World Athletics Ultimate Championship in Budapest, Hungary, with a stunning 91.09m throw.
A huge moment for Sri Lankan… pic.twitter.com/4kGfjNkx08
— Sri Lanka Tweet 🇱🇰 (@SriLankaTweet) September 13, 2026
جیولن تھرو کا یہ مقابلہ انتہائی سنسنی خیز رہا جس میں دنیا بھر سے ٹاپ 8 مایہ ناز اور ایلیٹ کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔
مقابلے کے آغاز میں ارشد ندیم کی کارکردگی کچھ دباؤ کا شکار نظر آئی اور انہوں نے اپنے پہلے راؤنڈ میں 74.42 میٹر کی تھرو کی۔
دوسری جانب ان کے مدمقابل کھلاڑیوں نے شروع سے ہی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ جرمنی کے نامور کھلاڑی جولین نے 85.89 میٹر کی تھرو کر کے شائقین کو محظوظ کیا، جبکہ گریناڈا کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ اینڈرسن پیٹرز نے 89.18 میٹر کی زبردست تھرو کے ساتھ اپنی سبقت قائم کر دی۔
ارشد ندیم کی کم بیک کی کوشش
مقابلے کے دوسرے راؤنڈ میں پاکستانی ایتھلیٹ نے شاندار کم بیک کرنے کی کوشش کی اور 79.66 میٹر کے فاصلے تک اپنا نیزہ پھینکا۔
تاہم عالمی سطح کے اس ایونٹ میں مسابقت انتہائی سخت تھی۔ اسی دوران ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے مایہ ناز جیولن تھروور کیشورن والکوٹ نے بھی بہترین فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 85.41 میٹر کی شاندار تھرو ریکارڈ کروائی، جس نے مقابلے کو مزید دلچسپ اور کٹھن بنا دیا۔
سیزن کی بہترین تھرو مگر میڈل سے محرومی
اپنی تیسری کوشش میں ارشد ندیم نے بھرپور طاقت اور تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے 81.79 میٹر کی تھرو کی۔
یہ کارکردگی رواں سیزن میں ان کی اب تک کی سب سے بہترین تھرو تھی، لیکن دیگر ٹاپ ایتھلیٹس کی غیر معمولی فارم اور بڑے فاصلوں کی وجہ سے یہ تھرو انہیں میڈل کی دوڑ میں برقرار رکھنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکی۔
اس طرح پاکستان کا یہ فخر پانچویں نمبر پر رہتے ہوئے ایونٹ سے باہر ہو گیا۔ واضح رہے کہ ارشد ندیم نے ہمیشہ عالمی سطح پر اپنی شاندار کارکردگی سے ملک کا نام روشن کیا ہے اور اعلیٰ ترین سطح کے مقابلوں کا یہ تجربہ بلاشبہ ان کے مستقبل کے ایونٹس کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔














