معروف عالمی تھنک ٹینک ‘اٹلانٹک کونسل’ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی ناکامی اور سرپرستی کی وجہ سے افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے فراہم کردہ محفوظ پناہ گاہوں کے باعث ‘تحریک طالبان پاکستان’ (TTP)، القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں نہ صرف مضبوط ہو رہی ہیں بلکہ پاکستان سمیت خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ‘تحریک طالبان پاکستان’ (TTP) افغان طالبان کی سب سے خطرناک حامی ہے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی کے لیے بطور لانچ پیڈ استعمال کر رہی ہے۔ اسی طرح القاعدہ بھی طالبان کے زیرِ سایہ خود کو دوبارہ عالمی خطرے کی شکل میں ڈھال رہی ہے، جبکہ ‘داعش خراسان’ (IS-K) طالبان کے ملٹری آپریشنز کے باوجود غیر فعال علاقوں میں بھرتیوں اور تربیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’طالبان عالمی دہشتگرد تنظیم‘، امریکا کا افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے سے صاف انکار
اٹلانٹک کونسل نے نشاندہی کی ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والا یہ خطرہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر پھیل رہا ہے۔ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے داعش کے عسکریت پسندوں کا یورپ، فلپائن اور امریکا میں حملوں کی سازشوں میں ملوث پایا جانا اور ‘ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ’ (ETIM) کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان تنظیموں کے عزائم عالمی سطح کے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کی ناکامی کی قیمت اب وسطی ایشیائی ممالک کو بھی چکانا پڑ رہی ہے، جہاں کی سرحدوں پر مسلسل سیکیورٹی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بھی افغان سرزمین پر متعدد کالعدم تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹی ٹی پی دہشتگرد افغان طالبان کے فعال تعاون سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ
تھنک ٹینک نے اپنے حتمی تجزیے میں واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت افغانستان میں دہشتگردی کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود اس مسئلے کا ایک بڑا حصہ ہے۔ طالبان کے گٹھ جوڑ اور سستی کی وجہ سے افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، اور اگر ان نیٹ ورکس کو یونہی وقت اور وسائل ملتے رہے تو یہ آئندہ کے لیے مزید خطرناک روپ دھار لیں گے۔














