طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی تہلکہ خیز رپورٹ

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 معروف عالمی تھنک ٹینک ‘اٹلانٹک کونسل’ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی ناکامی اور سرپرستی کی وجہ سے افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے فراہم کردہ محفوظ پناہ گاہوں کے باعث ‘تحریک طالبان پاکستان’ (TTP)، القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں نہ صرف مضبوط ہو رہی ہیں بلکہ پاکستان سمیت خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ‘تحریک طالبان پاکستان’ (TTP) افغان طالبان کی سب سے خطرناک حامی ہے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی کے لیے بطور لانچ پیڈ استعمال کر رہی ہے۔ اسی طرح القاعدہ بھی طالبان کے زیرِ سایہ خود کو دوبارہ عالمی خطرے کی شکل میں ڈھال رہی ہے، جبکہ ‘داعش خراسان’ (IS-K) طالبان کے ملٹری آپریشنز کے باوجود غیر فعال علاقوں میں بھرتیوں اور تربیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیے ’طالبان عالمی دہشتگرد تنظیم‘، امریکا کا افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے سے صاف انکار

اٹلانٹک کونسل نے نشاندہی کی ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والا یہ خطرہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر پھیل رہا ہے۔ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے داعش کے عسکریت پسندوں کا یورپ، فلپائن اور امریکا میں حملوں کی سازشوں میں ملوث پایا جانا اور ‘ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ’ (ETIM) کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان تنظیموں کے عزائم عالمی سطح کے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کی ناکامی کی قیمت اب وسطی ایشیائی ممالک کو بھی چکانا پڑ رہی ہے، جہاں کی سرحدوں پر مسلسل سیکیورٹی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بھی افغان سرزمین پر متعدد کالعدم تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹی ٹی پی دہشتگرد افغان طالبان کے فعال تعاون سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ

تھنک ٹینک نے اپنے حتمی تجزیے میں واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت افغانستان میں دہشتگردی کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود اس مسئلے کا ایک بڑا حصہ ہے۔ طالبان کے گٹھ جوڑ اور سستی کی وجہ سے افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، اور اگر ان نیٹ ورکس کو یونہی وقت اور وسائل ملتے رہے تو یہ آئندہ کے لیے مزید خطرناک روپ دھار لیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن کمشنر برائے مذہبی آزادی کی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے ملاقات

اے آئی سے پوری انسانیت کے خاتمے کا خدشہ، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا انتباہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد پاکستان کے سفارتی میدان میں اہم تبدیلیاں

کبھی گرفتاری کا دعویٰ، کبھی سڑک پر احتجاج، سہیل آفریدی لاہور میں کیا کرتے رہے؟

بلوچستان کی ترقی کے اصل دشمن: ’بی ایل اے‘ کی خاران میں سڑک تباہ کرنے اور مشخیل میں لیتھیم پروجیکٹ پر حملے کی مذموم کوشش

ویڈیو

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین نظام ہے، یوم جمہوریہ پر ارکان پارلیمنٹ کی متفقہ رائے

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘