کبھی گرفتاری کا دعویٰ، کبھی سڑک پر احتجاج، سہیل آفریدی لاہور میں کیا کرتے رہے؟

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور کا 2 روزہ دورہ سیاسی ملاقاتوں، کارکنوں سے رابطوں، پولیس کے ساتھ تلخ کلامی اور مختلف مقامات پر احتجاج کے باعث توجہ کا مرکز رہا۔

اس دوران وہ کہیں فٹ پاتھ پر بیٹھے نظر آئے، کہیں پولیس کی قیدیوں والی وین پر چڑھ گئے اور پھر احتجاجاً اسی وین کے اندر بیٹھ کر گرفتاری اور اغوا کا دعویٰ کرتے رہے۔

سہیل آفریدی پیر کو موٹروے کے راستے لاہور پہنچے، لاہور پہنچنے سے قبل وہ موٹروے پر موجود قیام و طعام کے مقامات پر بھی رکتے رہے، لاہور شہر کے داخلی راستے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ پولیس نے سڑک کا ایک رخ بند کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟

اس پر سہیل آفریدی نے احتجاج کیا اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے، اس دوران ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کے لیے سڑک نہیں کھولی جائے گی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔

پولیس کا مؤقف تھا کہ لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس لیے جلوس نکالنا اور سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

کچھ دیر تک جاری رہنے والے تناؤ کے بعد سہیل آفریدی کا قافلہ وہاں سے آگے روانہ ہوگیا۔

سہیل آفریدی کا اگلا پڑاؤ پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کا گھر تھا، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

اشتیاق احمد میلاد کی تیاری کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج رہے تھے، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

مزید پڑھیں: ’اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ مگر پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو‘، سہیل آفریدی کی جعلی گرفتاری پر لوگوں کا ردعمل

اس موقع پر اشتیاق احمد کے بھائی نے ویڈیو پیغام میں واضح طور پر کہا کہ پنجاب حکومت نے ان کا بہترین علاج کروایا اور جان بچانے کے ضمن میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔

اشتیاق احمد کے گھر کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے افراد اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ وہاں جلسہ کرنے نہیں بلکہ تعزیت کے لیے آئے ہیں، تعزیت کے بعد وزیراعلیٰ کا قافلہ مال روڈ اور ریگل چوک کی جانب روانہ ہوگیا۔

اس دوران پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی لاہور کے صدر سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

کارکنوں کی گرفتاری پر سہیل آفریدی پہلے قیدیوں کی وین کے آگے کھڑے ہوگئے، پھر وین کے اوپر چڑھ گئے۔

اس کے بعد وہ احتجاجاً اسی پولیس وین کے اندر جا بیٹھے اور کہا کہ جب تک کارکنوں کو رہا نہیں کیا جاتا، وہ وین سے نہیں اتریں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نااہلی کا خدشہ، سہیل آفریدی کے خلاف کون کون سے مقدمات درج ہیں؟

پولیس نے وین چلا دی اور سہیل آفریدی کو لکشمی چوک پر اتار دیا، وہاں پہنچ کر وہ دوبارہ فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور احتجاج شروع کردیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پسینے میں شرابور نظر آئے تو پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے انہیں پانی پلایا، سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ انہیں اغوا کرکے سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھے تھے، ان کے مطابق یہ گرفتاری نہیں بلکہ ڈرامہ تھا۔

بعد ازاں سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان سے ملاقات کے دوران 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تیاریوں پر بات چیت بھی کی۔

اس ملاقات کے بعد سہیل آفریدی کی پیر کے روز کی سیاسی سرگرمیاں اختتام پذیر ہوگئیں۔

منگل کو سہیل آفریدی اچھرہ میں میاں اکرم عثمان کے گھر پہنچے، جنہیں پیر کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ وہاں انہوں نے پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں اور پارٹی کے اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتیں کیں۔

مزید پڑھیں: بڑے احتجاج سے گریز، پی ٹی آئی پنجاب کم پروفائل سیاست کو کیوں ترجیح دے رہی ہے؟

اسٹریٹ موومنٹ کے اعلان کے باوجود عوام کی خاطر خواہ تعداد سڑکوں پر نظر نہیں آئی، زیادہ تر سرگرمیاں پی ٹی آئی کی قیادت، پولیس اور محدود تعداد میں موجود کارکنوں کے گرد ہی رہیں۔

سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کا مقصد پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور اسٹریٹ موومنٹ کو آگے بڑھانا تھا، تاہم عوام کی جانب سے انہیں بھرپور انداز میں پذیرائی نہیں ملی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن کمشنر برائے مذہبی آزادی کی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے ملاقات

اے آئی سے پوری انسانیت کے خاتمے کا خدشہ، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا انتباہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد پاکستان کے سفارتی میدان میں اہم تبدیلیاں

بلوچستان کی ترقی کے اصل دشمن: ’بی ایل اے‘ کی خاران میں سڑک تباہ کرنے اور مشخیل میں لیتھیم پروجیکٹ پر حملے کی مذموم کوشش

آسان ٹیکس اسکیم کا اجرا، سبز پلیٹ لگنے کے بعد ایف بی آر عملہ دکان پر نہیں آئے گا، بلال اظہر کیانی

ویڈیو

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین نظام ہے، یوم جمہوریہ پر ارکان پارلیمنٹ کی متفقہ رائے

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘