چین میں لیزر ٹیکنالوجی اب کھیتوں میں فصلوں کو نقصان پہنچانے والی جڑی بوٹیوں کے خاتمے سے لے کر گاڑیوں، بحری جہازوں، صارفین کی برقی مصنوعات اور مواصلاتی نظام تک مختلف شعبوں میں استعمال ہورہی ہے۔
چین میں کئی افراد نے پہلی بار لیزر کی طاقت 1980 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘ڈیتھ رے آن کورل آئی لینڈ’ میں دیکھی تھی، جس میں چینی سائنسدان ایک طاقتور لیزر کے ذریعے ایک غیرملکی گروہ کو توانائی کی جدید ٹیکنالوجی چوری کرکے اسے ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوشش کرتے دکھائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنالوجی میں چین کی برق رفتار پیشرفت، فروری میں شروع ہونے والا چینی ’سالِ گھوڑا‘ اور اس کی اہمیت
آج چین میں لیزر لانچر ایک مختلف مقصد کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ شمال مشرقی چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ میں، جو ملک کا سب سے بڑا اناج پیدا کرنے والا صوبہ ہے، ٹریکٹرز کے ذریعے کھیتوں میں لیزر ماڈیولز منتقل کیے جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام جڑی بوٹیوں کی شناخت کرکے انہیں نشانہ بناتا ہے اور لیزر شعاعوں کے ذریعے غیر مطلوب پودوں کو ختم کرتا ہے، جبکہ فصلوں کو نقصان نہیں پہنچتا اور مٹی بھی آلودہ نہیں ہوتی۔
چین کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا ہر موسم میں کام کرنے والا ذہین آلہ ایچ جی ٹیک نے تیار کیا ہے، جو لیزر ٹیکنالوجی اور ذہین صنعتی تیاری کے شعبے میں عالمی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا صدر دفتر وسطی چین کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان میں ہے۔
‘شین نونگ’ نامی اس روبوٹ کو چین کے ایک قدیم ثقافتی کردار کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے زراعت اور جڑی بوٹیوں سے علاج متعارف کرانے والا افسانوی کسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ چین کے کئی صوبوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔
ایچ جی ٹیک کے چیئرمین ما شین چیانگ نے نوجوانی میں 1980 کی فلم سے متاثر ہوکر لیزر ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کی۔ اس وقت چین کا تقریباً تمام لیزر آلات بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا تھا، تاہم اب ان کی کمپنی کی تیار کردہ لیزر ٹیکنالوجی اور مصنوعات دنیا بھر میں استعمال ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہالی ووڈ کی سلطنت کیسے زندہ ہو رہی ہے؟
ایچ جی ٹیک کی ایک ورکشاپ میں الکلائن الیکٹرولائزرز کے پرزوں کو جوڑنے والی پیداواری لائن بیرون ملک روانگی سے قبل آزمائشی مرحلے میں ہے۔ یہ آلات قابل تجدید توانائی استعمال کرتے ہوئے پانی کو تقسیم کرکے ہائیڈروجن تیار کرتے ہیں۔
مکمل خودکار پیداواری لائن میں لیزر ویلڈنگ کے ساتھ مشینی بصارت، روبوٹ کے ذریعے پوزیشننگ اور خودکار اسمبلی شامل ہیں، جس سے پیداواری کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایچ جی ٹیک کے لیزر ذیلی ادارے میں ہائیڈروجن توانائی سے متعلق مصنوعات کے سربراہ ہی پنگ کے مطابق چین میں سبز توانائی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اس شعبے میں لیزر مصنوعات اور مربوط ذہین صنعتی تیاری کے حل کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔
ان کے مطابق الکلائن الیکٹرولائزرز کے لیے کمپنی کے ذہین صنعتی تیاری کے حل مختلف براعظموں میں صارفین استعمال کررہے ہیں۔
ایچ جی ٹیک کی شاخیں شمالی امریکا، ایشیا اور یورپ میں موجود ہیں جبکہ اس کی مصنوعات 90 سے زائد ممالک اور خطوں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ کمپنی دنیا بھر میں 40 سے زائد فروخت اور خدمات کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق جہاز سازی کے لیے اس کے لیزر آلات کا عالمی مارکیٹ میں 15.4 فیصد حصہ ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اس کے 3D فائیو ایکسس لیزر کٹنگ آلات گزشتہ 3 سال سے عالمی مارکیٹ میں سب سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔
کمپنی کے نمائشی مرکز میں ایک نمائش کے دوران دکھایا گیا کہ لیزر نظام نئی توانائی سے چلنے والی گاڑی کے ڈھانچے کو 41.5 سیکنڈ میں جوڑ سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو ریاستی سائنسی و تکنیکی ترقی کے ایوارڈ میں پہلا انعام بھی مل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنس دانوں نے سُپر فاسٹ اور خاموش آبدوزوں کے لیے کون سی ٹیکنالوجی دریافت کی؟
ایچ جی ٹیک چین کی ان چند کمپنیوں میں شامل ہے جو 12 انچ سیمی کنڈکٹر ویفرز کے لیے لیزر کٹنگ آلات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کمپنی نے 2022 میں 800 جی سلیکون فوٹونک چپس بھی متعارف کرائی تھیں۔
کمپنی لیزر پر مبنی 3D پرنٹنگ کے ذریعے طیاروں کے انجن کے پرزوں، ڈرون کے پروں اور فن پاروں سمیت مختلف اشیا تیار کرتی ہے، جبکہ لیزر مارکنگ کے ذریعے خوراک اور مشروبات کی مصنوعات کو قابل شناخت بنایا جاتا ہے۔
ایچ جی ٹیک کے اسسٹنٹ جنرل منیجر لی ہوئی نے کہا کہ البرٹ آئن اسٹائن نے تقریباً 110 سال قبل محرک اخراج کا نظریہ پیش کیا تھا اور لیزر ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد بالآخر انسانیت کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق جہاں ضرورت ہو، وہاں جدت پیدا کی جاتی ہے۔
لی ہوئی نے چین کی تیزی سے ترقی کرتی لیزر صنعت کو سائنس دانوں اور انجینئرز کی جدت، ٹیکنالوجی کی صلاحیت بڑھانے اور معیاری ترقی کے لیے قومی کوششوں، بڑی اور متحرک مقامی مارکیٹ اور لیزر کے استعمال کی عالمی طلب میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا۔
چینی آپٹیکل سوسائٹی کی جانب سے جاری 2026 کی لیزر صنعت کی ترقی سے متعلق رپورٹ کے مطابق چین کی لیزر آلات کی مارکیٹ نے 2025 میں 95.8 ارب یوآن، یعنی تقریباً 14.16 ارب امریکی ڈالر کی فروخت ریکارڈ کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8 فیصد زیادہ تھی اور عالمی مارکیٹ کا 58 فیصد حصہ بنتی ہے۔
مئی 2026 میں کمپنی کی عالمی شراکت داروں کی کانفرنس کے دوران ما شین چیانگ نے کہا تھا کہ ایچ جی ٹیک 2030 تک اپنی مجموعی آمدنی میں بیرون ملک فروخت کا حصہ بڑھا کر 35 فیصد کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
لی ہوئی نے کہا کہ کمپنی عالمی صنعتی اور سپلائی چین کے تحفظ اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کے معیار زندگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔














