پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے بھارت میں جا کر کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے ایشین ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ مینز ایشین چیمپیئنز ٹرافی 2026 یا کم از کم پاکستان کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔
فیڈریشن کے مطابق یہ مطالبہ پاکستان اور بھارت کے مابین حساس دوطرفہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
The Pakistan Hockey Federation (PHF) has formally requested the Asian Hockey Federation to shift the Men’s Asian Champions Trophy 2026 tournament, or Pakistan’s matches, to a neutral venue.
According to the PHF, the request has been made in view of the current sensitive…
— Muneeb Farrukh (@Muneeb313_) September 16, 2026
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول یقینی بنانے کی خاطر ٹورنامنٹ یا پاکستان کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منعقد کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:ورلڈکپ ہاکی 2026: پاکستان اور بھارت میں سے آگے کون بڑھے گا، فیصلہ آج ہوگا
فیڈریشن کے مطابق موجودہ دوطرفہ کشیدگی کے پیشِ نظر یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
بھارت سمیت تمام رکن ممالک کے خلاف کھیلنے کو تیار
پی ایچ ایف نے واضح کیا کہ پاکستان ایشین چیمپیئنز ٹرافی اور عالمی ہاکی میں شرکت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور بھارت سمیت تمام رکن ممالک کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے۔
فیڈریشن نے امید ظاہر کی کہ ایشین ہاکی فیڈریشن غیر جانبدار مقام کی تجویز پر مثبت غور کرے گی تاکہ پاکستان کی مکمل شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
ٹورنامنٹ کب اور کہاں کھیلا جائے گا؟
مینز ایشین چیمپیئنز ٹرافی 2026، 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارتی ریاست پنجاب میں جالندھر اور موہالی کے میدانوں میں کھیلی جائے گی۔
6 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں بھارت، پاکستان، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا شریک ہوں گی، جبکہ عمان اور بنگلہ دیش کو ریزرو ٹیموں کے طور پر رکھا گیا ہے۔ دفاعی چیمپیئن بھارت اس مقابلے میں سب سے زیادہ 5 بار ٹرافی جیت چکا ہے۔
پاک بھارت کشیدگی اور حکومتی پالیسی کیا کہتی ہے؟
پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ سال پہلگام حملے اور اس کے جواب میں بھارت کے ’آپریشن سندور‘ کے بعد سے سرد مہری کا شکار ہیں۔
بھارتی وزارتِ کھیل نے واضح کیا ہے کہ دوطرفہ کھیلوں کے تعلقات معطل رہیں گے، تاہم کھلاڑی بھارت میں منعقد ہونے والے کثیر ملکی مقابلوں میں حصہ لے سکیں گے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹیم کا بھارت جانا حکومتی اجازت سے مشروط ہوگا اور فیڈریشن حکومتی ہدایات پر عمل کرے گی۔
کرکٹ میں بھی ایسی مثال قائم ہو چکی ہے
پاکستان اور بھارت کے مابین اسی طرز کا انتظام کرکٹ میں پہلے بھی اپنایا جا چکا ہے۔ 2025 کی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران بھارت نے پاکستان جانے سے انکار کیا تھا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے متحدہ عرب امارات کو بھارت کے میچز کے لیے غیر جانبدار مقام مقرر کیا۔
اسی معاہدے کے تحت پاکستان بھی 2027 تک بھارت میں ہونے والے کسی بھی ٹورنامنٹ میں غیر جانبدار مقام پر کھیلے گا، جس سے ہاکی چیمپیئنز ٹرافی سے متعلق پاکستان کے موجودہ مطالبے کو تقویت ملتی ہے۔














