پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) دنیا کے اہم ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ 6 دہائیوں سے زائد عرصے تک دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کی بنیاد رہا اور متعدد جنگوں، سرحدی کشیدگی اور سیاسی اختلافات کے باوجود برقرار رہا۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کے پانی کی تقسیم دونوں نو آزاد ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع بن گئی۔ اپریل 1948 میں بھارت کی جانب سے فیروزپور ہیڈورکس سے نکلنے والی بعض نہروں کا پانی عارضی طور پر بند کیے جانے کے بعد یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کئی برس تک مذاکرات ہوتے رہے، تاہم کوئی مستقل حل سامنے نہ آ سکا۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری

بالآخر ورلڈ بینک کی ثالثی میں قریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور ورلڈ بینک کے صدر یوجین آر بلیک (Eugene R. Black) نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت مستقل انڈس کمیشن(Permanent Indus Commission) قائم کیا گیا، جس میں پاکستان اور بھارت کا ایک ایک انڈس واٹر کمشنر شامل ہوتا ہے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی، دریاؤں سے متعلق معلومات کا تبادلہ، نئے آبی منصوبوں پر اعتراضات کا جائزہ لینا اور پیدا ہونے والے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ معاہدے کے مطابق دونوں کمشنرز کا کم از کم سال میں ایک مرتبہ اجلاس ہونا ضروری ہے۔

پانی کی تقسیم کیسے ہوئی؟

سندھ طاس معاہدے کے تحت 6 بڑے دریاؤں کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مغربی دریا یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے۔

اگرچہ معاہدے میں پانی کی تقسیم فیصد کے حساب سے بیان نہیں کی گئی، تاہم ان دریاؤں کے اوسط سالانہ بہاؤ کی بنیاد پر پاکستان کو قریباً 80 فیصد جبکہ بھارت کو قریباً 20 فیصد پانی میسر آتا ہے۔

انڈس بیسن سے ہر سال اوسطاً 168 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی گزرتا ہے، جو پاکستان کے زرعی، صنعتی اور گھریلو شعبوں کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ خطرے میں؟ پاکستان کے دریاؤں پر بھارت کے متنازع ڈیموں کی کہانی

بھارت کو کن حقوق کی اجازت دی گئی؟

چونکہ مغربی دریاؤں کے بیشتر منبع بھارت یا مقبوضہ جموں و کشمیر میں واقع ہیں، اس لیے معاہدے کے تحت بھارت کو ان دریاؤں پر غیر استعمالی (Non-Consumptive) مقاصد، محدود آبپاشی، پن بجلی کی پیداوار اور قریباً  3.6 ملین ایکڑ فٹ تک پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

تاہم معاہدہ واضح کرتا ہے کہ بھارت ایسے کسی منصوبے پر عمل درآمد نہیں کر سکتا جس سے پاکستان کے حصے میں آنے والے پانی کے قدرتی بہاؤ میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہو یا پانی کی مقدار متاثر ہو۔

تنازعات کیسے حل کیے جاتے ہیں؟

سندھ طاس معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے 3 سطح کے نظام موجود ہے۔

پہلے مرحلے میں معاملہ مستقل انڈس کمیشن میں اٹھایا جاتا ہے۔ اگر وہاں حل نہ نکلے تو اسے غیر جانبدار ماہر (Neutral Expert) کے سپرد کیا جا سکتا ہے، جبکہ پیچیدہ قانونی تنازعات کی صورت میں معاملہ ثالثی عدالت (Court of Arbitration) کے پاس جاتا ہے۔

اسی نظام کے تحت پاکستان نے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کے معاملے پر بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کیا تھا۔

حالیہ تنازع کیا ہے؟

گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا آخری باضابطہ اجلاس 30 اور 31 مئی 2022 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد کوئی سالانہ اجلاس نہیں ہو سکا۔

 23 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان کو ملنے والے پانی میں نمایاں کمی، مستقبل کے خدشات بڑھ گئے

پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ بعد ازاں جون 2025 میں دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت (Court of Arbitration) نے بھی قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا اور عدالت اس معاملے پر اپنا دائرۂ اختیار برقرار رکھتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کی قریباً 80 فیصد زرعی زمین کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، جبکہ ملک کی غذائی پیداوار، پن بجلی، پینے کے پانی کی فراہمی اور کروڑوں شہریوں کا روزگار انہی دریاؤں سے وابستہ ہے۔

اسی لیے ماہرین سندھ طاس معاہدے کو صرف ایک آبی معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، غذائی تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور علاقائی سلامتی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں سمیت ہر بڑی کشیدگی کے باوجود نافذ العمل رہا اور اسے بین الاقوامی آبی تعاون کی کامیاب مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالات

’امریکا ایسا طیارہ نہیں بنا سکتا تھا‘، ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر حیرت کا اظہار

رسجا کی نئی قیادت بلا مقابلہ منتخب، کھیلوں کی صحافت کے فروغ اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار

پیدل خاتون اور اسٹرولر کو ٹکر، سابق ایئر چیف کو عدالت نے سخت سزا سنا دی

پی آئی اے نے لاہور، مانچسٹر براہِ راست پروازوں کا آغاز کر دیا، افتتاحی پرواز 325 مسافروں کے ساتھ روانہ

ویڈیو

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

بھارت نے اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پاکستان اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ