حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شادی کی تقریبات کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی ہدایت کردی۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری حکم نامے میں تمام متعلقہ محکموں، اسسٹنٹ کمشنرز اور پیرا فورسز کو شادی کی تقریبات کی آزادانہ چیکنگ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیلڈ افسران شادی ہالز اور دیگر مقامات پر منعقد ہونے والی تقریبات کی نگرانی کریں گے اور پنجاب میرج فنکشنز ایکٹ 2016 کے تحت مقررہ قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔
حکم نامے میں شادی ہالز میں تقریبات کے مقررہ اوقات کی پابندی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ فیلڈ ٹیمیں تقریبات کے دوران مقررہ اوقات کار کی نگرانی کریں گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں اسے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
شادی کی تقریبات میں ون ڈش کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بھی فیلڈ ٹیموں کو خصوصی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ افسران چیکنگ کے دوران ون ڈش سے متعلق قانون کی پابندی کا جائزہ لیں گے اور خلاف ورزی سامنے آنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکم نامے کے مطابق شادی کی تقریبات کے دوران سامنے آنے والی تمام خلاف ورزیوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اگر کسی تقریب میں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوجاتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکم نامے کے تحت اے ڈی سی انفورسمنٹ کاشف جلیل کو لاہور ضلع کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ وہ شادی کی تقریبات کی نگرانی کرنے والی فیلڈ ٹیموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو یقینی بنائیں گے۔
فیلڈ ٹیموں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹس اے ڈی سی انفورسمنٹ کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹس میں شادی کی تقریبات کی چیکنگ، کی جانے والی نگرانی اور سامنے آنے والی خلاف ورزیوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
تمام متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ضرورت کے مطابق فیلڈ ٹیموں کو معاونت فراہم کریں تاکہ شادی کی تقریبات کی نگرانی کا عمل مؤثر انداز میں مکمل کیا جاسکے۔
حکومت پنجاب کے مطابق مانیٹرنگ کا بنیادی مقصد پنجاب میرج فنکشنز ایکٹ 2016 پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا اور شادی کی تقریبات میں مقررہ قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے۔














