2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف، کوانٹم ویلی ہائی ٹیک کاروبار کے لیے نئی راہیں کھولے گی، احسن اقبال

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوانٹم ویلی پاکستان ملک کے نوجوانوں، نئے کاروباری اداروں اور ہائی ٹیک کاروباروں کیلئے نئے مواقع پیدا کرے گی اور پاکستان کی معیشت کو علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے سفر کو مزید مضبوط کرے گی۔

احسن اقبال نے ’کوانٹم ویلی پاکستان: پاکستان کے جدت و ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل‘ کے عنوان سے منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کیلئے ایک نئی سمت کے آغاز کی علامت ہے، جس کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کے جدت اور ٹیکنالوجی کے مراکز سے جوڑا جائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی سفارتخانے میں پاکستان کی معیشت پر پالیسی چیلنج کا انعقاد

انہوں نے کہاکہ آج محض ایک منصوبے کا افتتاح نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کا آغاز ہوا ہے، جو ملک کیلئے باعث فخر لمحہ ہے۔

تقریب میں کیمبرج انوویشن سینٹر کے چیف ایگزیکٹو ٹم رو، کیمبرج انوویشن سینٹر کے پارٹنر ڈوگن شیرووڈ اور پلگ اینڈ پلے کی مینیجنگ پارٹنر سینا امیدی نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ 21ویں صدی میں طاقت کا مرکز اب جسمانی قوت نہیں بلکہ فکری اور تخلیقی صلاحیت ہے۔ دنیا کی معیشت میں وہی ممالک آگے بڑھیں گے جن کے پاس بہترین خیالات ہوں گے اور جو ان خیالات کو مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جبکہ ملک کے نوجوان صلاحیت اور استعداد کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ’’ٹیم پاکستان‘‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی اور جدت کے مراکز سے جوڑنے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی اور جدید ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام میں مختلف متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نئے کاروباری اداروں کیلئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان میں ہائی ٹیک کاروباروں کو فروغ ملے گا۔

ٹیکنالوجی تعاون کے لیے دو معاہدوں پر دستخط

افتتاحی تقریب کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور ملک کے جدت کے نظام کی معاونت کیلئے دو معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

پہلا معاہدہ کیمبرج انوویشن سینٹر اور کوانٹم ویلی پاکستان کے درمیان جبکہ دوسرا معاہدہ پلگ اینڈ پلے اور کوانٹم ویلی پاکستان کے درمیان ہوا۔

احسن اقبال نے ان معاہدوں کو پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور جدت، کاروبار اور ہائی ٹیک کاروباری ترقی کیلئے نئی راہیں بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو مضبوط اور پائیدار معیشت کا سہارا ملنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا حصول بلاشبہ مشکل ہے، تاہم ناممکن نہیں۔ پاکستان نے بے پناہ مشکلات کے باوجود جوہری طاقت بننے کا ہدف حاصل کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عزم، جدت اور اجتماعی قومی کوشش کے ذریعے ملک بلند اقتصادی اہداف بھی حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور ملک کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوان نسل کیلئے مضبوط معاشی مستقبل درکار ہے، سڑکوں پر انتشار نہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ دنیا غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور پاکستان جدید ٹیکنالوجیز کی جانب اپنا سفر تیز کرنے میں مزید وقت ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

برآمدات بڑھانا معاشی خودمختاری کے لیے ضروری

وفاقی وزیر نے مکمل معاشی خودمختاری کے حصول کیلئے برآمدات میں اضافے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی تکنیکی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے 2017 میں ابھرتے ہوئے شعبوں میں نیشنل سینٹرز کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مراکز میں بگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، آٹومیشن اینڈ روبوٹکس، جی آئی ایس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجی، اطلاقی ریاضی، لائیو اسٹاک اور جینومکس سمیت مختلف شعبے شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مراکز کے ذریعے جامعات کو آپس میں جوڑ کر قومی ٹیکنالوجی نیٹ ورک تیار کیا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت 2024 میں ملک کے ٹیکنالوجی کے سفر کو مزید تیز کیا گیا، جبکہ ابھرتا ہوا ٹیکنالوجی نظام 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے حکومتی ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی پر مشتمل پاکستان میں معاشی صلاحیت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں اور ملک کو سالانہ کم از کم 400 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان علم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے لیے لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو محض روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے علم، جدت اور ترقی کے معماروں میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

احسن اقبال نے پاکستانی نوجوانوں کو ’اقبال کے شاہین‘ قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بروئے کار لائیں۔

انہوں نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان عالمی ٹیکنالوجی اور جدت کے منظرنامے میں پاکستان کو مضبوط مقام حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ ہمارا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں نمایاں مقام دلانا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے دفاع اور سفارتکاری میں خود کو منوا لیا، اب معیشت کی باری ہے، سفیر پاکستان رضوان شیخ

کیمبرج انوویشن سینٹر اور کوانٹم ویلی پاکستان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داری نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور نئے کاروباری اداروں اور ہائی ٹیک کاروباروں کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے گی۔

احسن اقبال نے کہاکہ کوانٹم ویلی پاکستان کا آغاز صرف ایک نئے ادارہ جاتی اقدام کا افتتاح نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پر مبنی، جدت پسند اور معاشی طور پر بااختیار پاکستان کی جانب ایک وسیع تر سفر کا آغاز بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp