شوکت خانم کے نام پر فنڈز جمع کرنے، عمران خان کے نام پر اپیل اور فنڈ ریزنگ کے لیے شعیب اختر جیسے معروف چہروں کے استعمال پر سنجیدہ فکر ناقدین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق عوام سے یہ کہا جاتا ہے کہ جمع کی جانے والی رقم کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف خیراتی فنڈ ریزنگ تک محدود ہے یا عوامی اعتماد کو تحریک انصاف کے سیاسی اور سوشل میڈیا بیانیے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مؤقف میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کینسر کے نام پر حاصل کیا گیا عوامی اعتماد آخر کہاں تک استعمال ہوتا ہے، صرف اسپتال تک یا سیاست تک بھی۔
یہ بھی پڑھیں:شوکت خانم میموریل اسپتال کو عطیات کی کمی کا سامنا، عوام سے اہم اپیل
ناقدین کے مطابق تحریک انصاف کے لیے شوکت خانم ہمیشہ سے سیاسی اور مالیاتی فنڈنگ حاصل کرنے کا آسان ذریعہ رہا ہے اور بیرون ملک اسپتال کے نام پر چندہ جمع کرنا سیاسی مقاصد اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا پرانا طریقہ ہے۔
ناقدین نے شعیب اختر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی وی کے کروڑوں روپے کے معاہدے سے محرومی کے بعد انہیں بھی اپنی ’بجھتی لائم لائٹ‘ کا سہارا مل گیا، جبکہ تحریک انصاف کو فنڈنگ کے لیے ایک ’کراؤڈ پلر‘ اور شعیب اختر کو اپنا برانڈ چمکانے کا نیا اسٹیج مل گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کینسر جیسے حساس معاملے کو بھی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور فنڈ ریزنگ گالا کے نام پر چندہ جمع کرنے کے ساتھ ’کالے دھن کو سفید‘ کرنے کے راستے بھی نکالے جا رہے ہیں۔













