روس نے یوکرین کے خلاف ڈرون جنگ میں نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایرانی ساخت کے شاہد ڈرونز سے حاصل ٹیکنالوجی کو تیز رفتار جیراں سیریز میں تبدیل کردیا ہے۔
نئے جیراں-5 ڈرون کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 600 کلومیٹر فی گھنٹہ اور آپریشنل بلندی 6 ہزار میٹر تک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث یہ روایتی ڈرون کے مقابلے میں کروز میزائل کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔
یوکرین کی تیسری آرمی کور کے نائب کمانڈر میکسم ژورین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان ڈرونز سے نمٹنے کا مؤثر طریقہ تلاش کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے۔
یوکرین نے 2022 میں شاہد طرز کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موبائل اینٹی ڈرون یونٹس، مشین گنوں اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے انٹرسیپٹرز کا استعمال شروع کیا تھا اور ایک مرحلے پر ان کی تباہی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ رہی۔ تاہم روس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جیٹ انجن والے ڈرونز متعارف کرائے۔ ماہرین کے مطابق جیراں-3، جیراں-4 اور جیراں-5 میں روایتی پسٹن انجن اور پروپیلر کی جگہ چھوٹے ٹربو جیٹ انجن استعمال کیے گئے ہیں، جن کی بڑی تعداد چینی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے۔ جیراں-4 کی رفتار 500 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جبکہ جیراں-5 تقریباً 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے اور مختلف اقسام کی رینج 450 سے 950 کلومیٹر سے زیادہ تک بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے روس یوکرین کے فضائی دفاع کو چکمہ دینے کے لیےکون سا نیا اور موثر حربہ اختیار کررہا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کا موجودہ فضائی دفاع بنیادی طور پر نسبتاً سست پروپیلر والے ڈرونز کے خلاف تیار کیا گیا تھا۔ یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جس کے باعث 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والے ہدف کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جدید جیراں ڈرونز میں الیکٹرانک وارفیئر نظام بھی شامل کیے جارہے ہیں جو آخری مرحلے میں انٹرسیپٹر ڈرونز کے ویڈیو رابطے کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یوکرینی فضائیہ کے نائب کمانڈر یوری چیریواشینکو کے مطابق ان ڈرونز کا ایک اہم خطرناک پہلو یہ یہ بھی ہے کہ انہیں آپریٹر کی ہدایات کے ذریعے دورانِ پرواز راستہ اور بلندی تبدیل کرنے کے لیے رہنمائی دی جاسکتی ہے۔
بڑی تعداد میں حملے روس کی حکمت عملی کا اہم حصہ
روس نے صرف ڈرونز کی رفتار نہیں بڑھائی بلکہ انہیں بڑی تعداد میں استعمال کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق روس نے جون میں تقریباً 450 جیٹ سے چلنے والے ڈرونز لانچ کیے، جبکہ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر 2,850 ہوگئی۔ بعض حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز میں تقریباً 70 فیصد جیٹ انجن والے تھے۔
ماہرین کے مطابق بڑی تعداد میں حملوں کا مقصد صرف اہداف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مسلسل انٹرسیپٹر میزائل، عملہ اور دیگر وسائل خرچ کرنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 800 ڈرونز میں سے 90 فیصد کو بھی تباہ کردیا جائے تو تقریباً 80 ڈرون اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔ بڑی تعداد میں حملوں کے ذریعے روس مختلف سمتوں سے ڈرون بھیجنے، بلندی تبدیل کرنے، جعلی اہداف استعمال کرنے اور حملوں کی ترتیب تبدیل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے، جس سے یوکرینی فضائی دفاع کو مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ توانائی کے مراکز، گیس تنصیبات، دفاعی پیداوار اور رسد کے نظام کو نشانہ بنا کر روس یوکرین کی جنگی صلاحیت اور شہری حوصلے، دونوں کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
کنگز کالج لندن کے جنگی امور کے ماہر جیمز پیٹن راجرز کے مطابق جیراں-5 ایک ایسے یک طرفہ حملہ آور ڈرون کی اہم مثال ہے جو روایتی کروز میزائل کے مقابلے میں کم لاگت کے ساتھ زیادہ رفتار فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے روس کو مسلسل طویل فاصلے کے حملے کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ مہنگے میزائل زیادہ اہم یا سخت حفاظتی حصار والے اہداف کے لیے محفوظ رکھے جاسکتے ہیں۔
یوکرین سستے اور تیز انٹرسیپٹرز کی تلاش میں
یوکرین نے رواں سال جنوری میں جیٹ انجن والے ڈرونز کا ملبہ حاصل کیا تھا، تاہم تقریباً 9 ماہ گزرنے کے باوجود ان کے خلاف کم لاگت اور مؤثر حل تلاش کرنا مشکل ثابت ہوا ہے۔ جولائی میں یوکرینی فوج نے نئے انٹرسیپٹر ڈرونز کی آزمائش کے لیے متعدد کمپنیوں کو مدعو کیا، لیکن بعض ڈرونز 400 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر قابو سے باہر ہوگئے اور قریبی کھیتوں اور جنگلات میں جاگرے۔
کیف اب تیز رفتار انٹرسیپٹر ڈرونز، کم لاگت کے رہنمائی والے میزائل، جی پی ایس نظام میں مداخلت اور حملہ آور ڈرونز کو سامنے سے ٹکرانے جیسی حکمت عملیوں پر غور کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ کے خاتمے کا ’خفیہ‘ منصوبہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق یوکرین نے تقریباً 600 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار رکھنے والے بعض نئے انٹرسیپٹر نظام بھی میدان میں لانا شروع کیے ہیں، تاہم مؤثر دفاع کے لیے انہیں زیادہ حساس نگرانی اور خودکار فیصلہ سازی کے نظام کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیراں-5 جیسے ڈرونز کے باعث مستقبل کی فضائی جنگ میں صرف جدید ترین میزائل تیار کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں آنے والے کم لاگت ڈرونز کو کم خرچ طریقے سے روکنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوگی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق روسی ڈرونز کی تیاری کے مراکز، انجن اور پرزوں کی سپلائی لائنز اور لانچ سائٹس کو نشانہ بنانا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
جیراں-5 کی مثال سے جنگی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی بھی سامنے آتی ہے: بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے ڈرونز اور انتہائی اہم، مضبوط یا فوری اہداف کے لیے میزائل۔ ماہرین کے مطابق اس سے میزائلوں کا کردار ختم نہیں ہوگا بلکہ وہ زیادہ مخصوص اہداف کے لیے استعمال ہوں گے، جبکہ ڈرونز بڑی تعداد میں حملوں کے ذریعے دشمن کے فضائی دفاع کو مصروف اور کمزور رکھنے کا کردار ادا کریں گے۔
روس اور یوکرین کی جنگ سے حاصل ہونے والا یہ تجربہ دنیا بھر کی افواج کو ڈرون حملوں کے خلاف کم لاگت اور بڑے پیمانے پر دفاعی نظام تیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔














