بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف منظم مظالم اور مذہبی جبر کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔
عالمی جریدے دی کرسچن پوسٹ نے بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں پیش آنے والے ایک واقعے کی رپورٹ دی ہے، جہاں ایک مسیحی خاتون کی تدفین ہندو رسومات کے مطابق کرنے پر مجبور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں مسیحی پادری کو زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ، ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی
مقامی پادری نے واقعے کو ظلم و جبر کی انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اب مردے بھی محفوظ نہیں رہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست چھتیس گڑھ مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد حملوں اور مذہبی جبر کا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔
مقامی پادری کے مطابق غریب افراد پر زبردستی مذہبی رسومات مسلط کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لینے والے عناصر کو کسی بھی قسم کی سزا کا خوف نہیں۔
یہ بھی پڑھیے مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کے لیے بھی بھارت میں جگہ تنگ، وال اسٹریٹ جرنل نے مودی کے بھارت کا بدنما چہرہ عیاں کردیا
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کو امتیازی حراست، تشدد اور مذہبی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایسے واقعات نے اقلیتوں کے خلاف ان مبینہ ظالمانہ اقدامات کے ذریعے خود کو سیکولر قرار دینے والے بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔














